کورکمانڈرز کانفرنس:ریاست کے خلاف بغاوت ناقابل برداشت، 9 مئی کا کھیل کھیلنے والوں کو عبرت کا نشانہ بنانے کا فیصلہ

چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی، داخلی استحکام اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر اہم فیصلے کیے گئے۔

کانفرنس کا آغاز مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔ فورم نے خبردار کیا کہ ہندوستان کے آلہ کار کے طور پر دہشت گردی کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری طالبان کی مخبوط الحواس قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

فورم نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر بہتر گورننس، کرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور پولیس کی استعدادِ کار بڑھانا ناگزیر ہے۔

داخلی سلامتی کے حوالے سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے بلاامتیاز اور قانون کے مطابق فیصلہ کن طاقت سے نمٹا جائے گا۔

عالمی و علاقائی سطح پر فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا خیرمقدم کیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کو دہرایا گیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط کیا جائے اور فارمیشنز جدید ٹیکنالوجی و بہترین ٹریننگ کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھائیں ۔

Scroll to Top