تخت بھائی: زرعی ماہرین کا جدید ٹیکنالوجی اور معیار ی بیج کے استعمال پر زور

تخت بھائی: ملک کے معروف زرعی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ زراعت کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ معیاری بیج، کھاد، پانی اور جراثیمی ادویات کا استعمال نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں زراعت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی اور مؤثر نگرانی بہتر نتائج دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

یہ باتیں مکئی کی پیداوار میں اضافہ کرنے والے ادارے پیٹل سیڈ/زرغون کارپوریشن کے زیر اہتمام “سلام کسان” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کی گئیں۔

تقریب میں ملک کے زرعی ماہرین اور صوبے کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے زراعت سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب میں چیئرمین این ایس ڈی آر، وائس چانسلر نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر اصف علی خان، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر بخت جھان، ڈائریکٹر زرعی ریسرچ خیبر پختونخوا ڈاکٹر عبدالرؤف، ڈائریکٹر سیڈز رجسٹریشن اسلام آباد ڈاکٹر اعظم خان، ڈائریکٹر ڈاکٹر حیات اللہ ترین، ڈی جی پلانٹ حاجی محمد الطاف حسین، پیٹل سیڈ کے چیف ایگزیکٹو محمد مشتاق، نیشنل سیل منیجر محمد اشتیاق، اور کسان بورڈ خیبر پختونخوا کے صدر رضوان اللہ و صوبہ وسطی کے صدر حاجی عبدالاکبر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ مکئی انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے ساتھ دیگر اہم کاموں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی چیلنجوں کا مقابلہ جدید زراعت اپنانے سے ممکن ہے، اور اس میں حکومتی اداروں کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر اور کسانوں کا تعاون ضروری ہے۔

تمام مقررین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر پانی کے ضائع ہونے پر تشویش ظاہر کی اور اس کے مؤثر استعمال کی ہدایت کی۔ تقریب میں پیٹل سیڈ/زرغون کارپوریشن کی کارکردگی کو سراہا گیا اور مہمانوں اور کسانوں میں شیلڈز، انعامات، اسناد اور دیگر تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔

Scroll to Top