این اے 43 میں 555 ووٹوں کے معمولی فرق پر مکمل دوبارہ گنتی نہ کرانے کا معاملہ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا اسعد محمود نے پی ٹی آئی کے داور خان کنڈی کی فتح کے خلاف سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کر دی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حلقے کے تمام 348 پولنگ اسٹیشنز کے بجائے صرف چند اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کرنا قانون کے صریحاً منافی ہے جبکہ جزوی دوبارہ گنتی کے عمل کے دوران متعدد پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ پیپرز غائب پائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے حکومتی پیشکش پرمثبت ردعمل دینے کا فیصلہ
اسعد محمود کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپر ہی اصل عوامی مینڈیٹ کا بنیادی ثبوت ہیں لہٰذا انتخابی ٹریبونل کا یکم دسمبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ این اے 43 کے نتائج کے مطابق داور خان کنڈی 64 ہزار 575 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے جبکہ اسعد محمود 64 ہزار 20 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔





