سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران پاک فوج نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی اے کی دفاعی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی جس کے نتیجے میں دشمن کے متعدد ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور مورچے ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں پاک سیکیورٹی فورسز کی برتری واضح طور پر قائم ہے اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ کارروائی کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور دشمن کی فائرنگ پوزیشنز کو غیر مؤثر بنانا تھا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پاک فوج نے ٹینک کے درست اور مؤثر فائر کے ذریعے ٹی ٹی اے کے پٹھان پوسٹ کو براہ راست نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مذکورہ ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
حکام کے مطابق پاک فوج سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی بھی دراندازی یا جارحیت کی صورت میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن غضب للحق میں بڑی کامیابی: کھرچر قلعہ تباہ، سیکیورٹی ذرائع
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فضائیہ اور زمینی افواج کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثر انداز میں منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ لغمان میں بڑی جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے اہم اسلحہ ڈپو، اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
اسی آپریشن کے تسلسل میں پاک فوج نے کھرچر قلعے پر بھی کاری ضرب لگائی ہے جہاں موجود اہم ملٹری تنصیبات کو ملیامیٹ کر دیا گیا ہے اور اس حملے میں کئی افغان خارجی جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاک افغان بارڈر پر پاک فوج نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیو افغان-8 پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد دشمن وہاں سے فرار ہو گیا جبکہ بعد ازاں اس پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، پاک فوج کے جوان افغانستان میں داخل ہو کر دشمن کی ایک اور اہم پوسٹ پر بھی قابض ہو گئے ہیں اور اس کامیاب کارروائی کے بعد علاقے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کرم کے محاذ پر پاک فوج کے توپ خانے (آرٹلری) نے دشمن کے ٹھکانوں پر شدید اور مؤثر گولہ باری کی ہے۔ پاک فوج کی اس اچانک اور بھرپور کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے دفاعی حصار بکھر کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو امریکا سے نکالا جائے، ٹرمپ کا اعلان
حیرت انگیز طور پر اس شدید گولہ باری کے جواب میں دشمن کی جانب سے معمولی مزاحمت یا ایک فائر تک نہیں کیا گیا جس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ دشمن پاکستانی فوج کی ہیبت اور ضربِ شدید کے باعث اپنے ٹھکانے چھوڑ کر پسپا ہو چکا ہے۔
پاک فضائیہ نے افغانستان کے شہر قندھار میں ایک انتہائی اہم اور بڑا پٹرول ڈپو بھی تباہ کر دیا ہےجس سے دشمن کی سپلائی لائن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے 148 اے ڈی (AD) نے دشمن کے خلاف ایک انتہائی منظم اور تکنیکی کارروائی کی ہے۔ اے/کیو سی (A/QC) کے ذریعے تارخوبی کمپلیکس کے اطراف میں موجود آئی اے جی (IAG) کے زیرِ زمین بنکرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاک فوج کی اس کاری ضرب سے دشمن کے وہ خفیہ ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے ہیں جنہیں وہ محفوظ ترین تصور کر رہے تھے۔
مہمند اور باجوڑ سیکٹرز سے پاک فوج نے دشمن کی جارحیت کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے فارورڈ ٹھکانوں پر شدید پنشمنٹ فائر شروع کر دیا ہے۔
مہمند سیکٹر سے دشمن کے ٹھکانوں کو بھاری دھماکوں اور شعلوں کی لپیٹ میں لے کر مرحلہ وار تباہ کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی ہدف سرحد پار موجود عناصر کی جنگی استعداد کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے جبکہ باجوڑ سیکٹر سے بھی ٹی ٹی اے کے فارورڈ ٹھکانوں پر مؤثر گولہ باری کے نتیجے میں دشمن کی باقی ماندہ تنصیبات کو منظم انداز میں ملبے کا ڈھیر بنایا جا رہا ہے۔





