قبل از وقت بڑھاپے کی اصل وجہ سامنے آگئی

عمر میں اضافہ ایک ایسا قدرتی عمل ہے جسے روکنا ممکن نہیں لیکن موجودہ دور میں بیشتر افراد اپنی عادات کے باعث جوانی میں ہی بوڑھے نظر آنے لگتے ہیں۔

امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں ہونے والی ایک حالیہ طبی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ نیند کا غیر متوازن دورانیہ انسان کو وقت سے پہلے بڑھاپے کا شکار بنا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بہت کم یا بہت زیادہ وقت تک سونا محض تھکن کا باعث نہیں بنتا بلکہ اس سے انسانی دماغ، دل، پھیپھڑوں اور مدافعتی نظام کے بوڑھے ہونے کی رفتار انتہائی تیز ہو جاتی ہے۔

ماہرین نے اسے حیاتیاتی عمرمیں اضافے سے تعبیر کیا ہے جو کہ انسان کی اصل تاریخ پیدائش سے مختلف ہو سکتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی ایک حیاتیاتی عمر ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ جینز اور طرز زندگی اس عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر یہ حیاتیاتی عمر آپ کی اصل عمر سے زیادہ ہو جائے تو مختلف دائمی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس مطالعے کے لیے یوکے بائیو بینک سے 5 لاکھ افراد کا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور مشین لرننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے جسم کے 17 مختلف اعضا کا معائنہ کیا گیا۔ محققین نے جگر، خون اور پروٹینز کے تجزیے سے معلوم کیا کہ نیند کی کمی یا زیادتی کس طرح اعضا کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

تحقیق میں یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ 6 گھنٹے سے کم یا 8 گھنٹے سے زائد نیند لینے والے افراد کے اعضا تیزی سے بوڑھے ہو رہے تھے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو روزانہ 6.4 سے 7.8 گھنٹے کی نیند لیتے ہیں، ان کی حیاتیاتی عمر کی رفتار سست یا معمول کے مطابق رہتی ہے۔

محققین نے خبردار کیا ہے کہ نیند کی کمی صرف بڑھاپا ہی نہیں لاتی بلکہ یہ موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا باعث بھی بنتی ہے۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ سونا پھیپھڑوں کے امراض اور نظام ہاضمہ کی خرابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نوٹ :اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے

Scroll to Top