فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کیلئے آر ایس ایس اور سابق بھارتی آرمی چیف کے بیانات کی حمایت کردی

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور سابق بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیانات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ مثبت بات ہے کہ اب بھارت میں بھی ایسے خیالات سامنے آ رہے ہیں جن میں جنگ کے بجائے مذاکرات کو مسائل کا حل قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو تو یہ احساس ہوا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابالے کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل دتاتریہ ہوسابالے نے اپنے بیان میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا، جسے سیاسی حلقوں میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی صحت سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، طلال چودھری

اس کے علاوہ بھارتی فوج کے سابق سربراہ منوج نروانے نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کو یکساں مسائل کا سامنا ہے اور عام لوگوں کا سیاست سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارتی سیاسی و عسکری حلقوں سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے تناظر میں اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top