سوشل میڈیا پر پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، حقائق کے برعکس بیانیہ پھیلانے والوں کی حقیقت سامنے آگئی

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر تنقید کرنے والے بعض ماہرینِ معیشت اور مبصرین کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق بعض حلقے عالمی توانائی مارکیٹ کے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ناقدین کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت خام تیل کی قیمتیں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی توانائی ضروریات کا انحصار صرف خام تیل پر نہیں بلکہ بڑی مقدار میں ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بھی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اپنی ضروریات کا تقریباً 54 فیصد پیٹرول اور ڈیزل ریفائن شدہ شکل میں درآمد کرتا ہے کیونکہ مقامی ریفائنریوں کی استعداد قومی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں ریفائنڈ پیٹرول کی قیمت 129 ڈالر فی بیرل جبکہ ریفائنڈ ڈیزل کی قیمت 157 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ صرف خام تیل کی قیمتوں کا حوالہ دے کر مقامی پیٹرولیم نرخوں کا موازنہ کرنا زمینی حقائق کے منافی ہے، ریفائنڈ ایندھن کی بلند عالمی قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل اور داخلی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرول پر عوام سے کتنی وصولی ہوئی؟ حکومت نے تفصیلات جاری کردیں

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کسانوں، پبلک ٹرانسپورٹرز اور کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف دینے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فراہم کر رہی ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی بحران اور عالمی منڈی کی صورتحال کا تجزیہ کرتے وقت خام تیل کے ساتھ ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں اور درآمدی ڈھانچے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Scroll to Top