گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ ہفتے میں پانچ دن اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے رہیں گے تو پھر صوبہ کون چلائے گا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دو پی ٹی آئی ہونی چاہئیں، ایک حکومت چلانے کے لیے اور دوسری اڈیالہ کے لیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و استحکام چاہتے ہیں اور کسی کے راستے میں روڑے نہیں اٹکائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق اب تک صرف مفروضے زیر گردش ہیں اور اس حوالے سے کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ایک وزیر کی جانب سے 10،10 وزارتیں چلانا بھی اضافی بوجھ ہے تاہم آئین کے مطابق وزیراعلیٰ جتنے وزراء رکھ سکتے ہیں، صوبے میں اتنے ہی وزراء موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی کابینہ میں نئے چہروں کی شمولیت پر پی ٹی آئی کے اندر اختلافات سامنے آگئے
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین کے مطابق جس صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے، اس پر پہلا حق اسی صوبے کا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب سے گندم اسمگل ہو کر خیبرپختونخوا آتی ہے جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر پنجاب کو گندم فراہم کرنے میں مسئلہ ہے تو کم از کم راہداری دی جائے تاکہ سندھ سے گندم حاصل کی جا سکے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک جانب صوبے میں گندم کی قلت ہے جبکہ دوسری طرف سی این جی بھی بند کردی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں کو روٹی نہیں دی جائے گی تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔





