حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ کے تحت جاری کارروائی میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن سے متعلق تنازعات پر ثالثی عدالت کے تازہ ضمنی فیصلے پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 15 مئی 2026 کو ثالثی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے ’زیادہ سے زیادہ ذخیرۂ آب سے متعلق ضمنی فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت مغربی دریاؤں پر بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر واضح اور حقیقی حدود عائد ہیں جو محض رسمی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مرحلے پر ہی لاگو ہوتی ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کسی بھی رن آف دی ریور منصوبے میں ذخیرۂ آب کا تعین حقیقی منصوبہ جاتی ضروریات، ہائیڈرولوجیکل و ہائیڈرولک ڈیٹا، پاور سسٹم کی ضروریات اور معاہدے کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ بعد ازاں آپریشنل یقین دہانیوں کو اس کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق عدالت نے 8 اگست 2025 کے جنرل ایشوز ایوارڈ کی روشنی میں اس اصول کو مزید واضح کیا ہے کہ منصوبوں کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت اور متوقع لوڈ حقیقت پسندانہ اور شواہد پر مبنی ہونا ضروری ہے جبکہ مصنوعی یا غیر حقیقی مفروضات کی بنیاد پر پانی کے ذخیرے میں اضافہ قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو کمزور سمجھنا غلطی ہوگی، بھارت کو حقیقت تسلیم کرنا ہوگی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کی شفافیت کے تحت پاکستان کو مکمل اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے، بصورت دیگر وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے گا۔
پاکستان نے اس فیصلے کو معاہدے کے تحت اپنے جائزہ لینے کے حقوق کی توثیق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی عدالت کے فیصلے فریقین پر حتمی اور لازمی حیثیت رکھتے ہیں اور آئندہ تنازعات کے حل کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اسلام آباد نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری اور اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی و سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔





