پی ایس ایف کے نوجوان رہنما کا اے این پی کے سابق رہنما سید معصوم شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) یونیورسٹی آف صوابی کے سابق کلچر سیکرٹری توقیر عباس نے سید معصوم شاہ باچا کے خلاف مبینہ طور پر غلط اور اشتعال انگیز الزامات کے معاملے پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

توقیر عباس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے سیکرٹریٹ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیں گے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ متعلقہ شخص کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف مبینہ طور پر بے بنیاد اور غلط الزامات عائد کیے گئے۔

ان کے مطابق ان الزامات کے باعث نہ صرف غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ سیاسی کارکنان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مبینہ بیانات میں اے این پی کے کارکنان کو غیر مذہب قرار دینے جیسے حساس الفاظ استعمال کیے گئے، جس سے سنگین نوعیت کے خدشات جنم لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے این پی کا مذہبی بنیادوں پر سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے والے شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

توقیر عباس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات معاشرتی انتشار، اشتعال اور بدامنی کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے حساس اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا جا سکے۔

Scroll to Top