کاروباری طبقے کے لیے خوشخبری، نیا ٹیکس ماڈل متعارف

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چھوٹے کاروبار کرنے والے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ایک نیا اور سادہ فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت محدود سالانہ فروخت رکھنے والے تاجروں کو پیچیدہ ٹیکس قواعد سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

نئے نظام کے مطابق جن دکانداروں کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے، انہیں اپنی آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس کے موجودہ پیچیدہ ڈھانچے کو آسان بنانا اور چھوٹے تاجروں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس مقصد کے لیے ایک سادہ رجسٹریشن فارم بھی تیار کیا ہے، جس میں دکان اور مالک کی بنیادی معلومات، کاروبار کی نوعیت اور سالانہ فروخت کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، پولنگ 7 جون کو ہوگی

یہ فارم اردو سمیت مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ دکاندار اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

حکام کے مطابق رجسٹریشن کا عمل آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے مکمل کیا جا سکے گا۔ دکاندار ایف بی آر کے ویب پورٹل یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے فارم جمع کرا سکیں گے، جس سے رجسٹریشن چند منٹوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اسکیم کے تحت رجسٹریشن کے لیے 25 ہزار روپے کی ابتدائی فیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے یا ٹیکس کی ادائیگی میں کوتاہی کی صورت میں 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس اسکیم میں رجسٹرڈ دکانداروں کے آڈٹ کے معاملات میں نرمی برتی جائے گی اور معمول کے آڈٹ محدود رکھے جائیں گے۔ پہلے سے ادا شدہ ٹیکس کو بھی نئے نظام میں ایڈجسٹ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ تاجروں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد دکانداروں کو خصوصی رجسٹریشن پلیٹ اور کیو آر کوڈ جاری کیا جائے گا، جسے دکان پر نمایاں جگہ آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔

حکومت کے مطابق اس نظام کے تحت رجسٹرڈ دکانوں کو غیر ضروری پوچھ گچھ اور بار بار معائنوں سے استثنا ملنے کی توقع ہے، جس سے کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان: ہسپر ہوپر گلیشیئر کے پگھلنے سے پانی کے بہاؤ میں اضافہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

ماہرین کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں چھوٹے کاروبار اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اندازوں کے مطابق چھوٹے کاروباری شعبے کا 40 سے 60 فیصد حصہ ابھی تک ٹیکس نظام میں شامل نہیں ہو سکا۔ حکومت کو امید ہے کہ آسان طریقہ کار کے باعث زیادہ تاجر رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروائیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ یہ نظام تاجر برادری اور کاروباری نمائندوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم میں نئے اور پہلے سے رجسٹرڈ دونوں قسم کے کاروباری افراد کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگر بڑی تعداد میں چھوٹے دکاندار اس نظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں وسعت آئے گی بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد محصولات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ تاجروں اور ریاست کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔

Scroll to Top