خیبریونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے خیبرپختونخوا حکومت کا کالا قانون مسترد کر دیا

پشاور: خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) اور پشاور پریس کلب نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے مبینہ طور پر منظور کیے گئے قانون کو مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید تشویش، افسوس اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، جنرل سیکرٹری ارشاد علی، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان اور دیگر منتخب عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت صحافیوں کو قید، بھاری جرمانوں اور اسمبلی کارروائی کی آزادانہ کوریج پر پابندیوں جیسے اختیارات دینا آئین پاکستان میں دیے گئے اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، لہٰذا صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے پر قید، جرمانوں اور دیگر پابندیوں کی دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے۔

کے یو جے اور پشاور پریس کلب نے اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ مذکورہ بل کو کئی ماہ تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا اور اس حوالے سے صحافتی تنظیموں، میڈیا نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے مؤثر مشاورت بھی نہیں کی گئی۔ بیان کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی کو یکطرفہ انداز میں منظور کرنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور پریس کلب کا اسمبلی قانون میں ترامیم پر اظہارِ تشویش، آزادیٔ صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں

صحافتی تنظیموں نے خیبرپختونخوا حکومت اور اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ صحافی برادری کے تحفظات فوری طور پر دور کیے جائیں، متنازع شقوں پر نظرثانی کی جائے اور تمام صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد ایسا قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو ایک طرف ایوان کے وقار کو برقرار رکھے اور دوسری جانب آزادیٔ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنائے۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر قانون کی متنازع شقیں واپس نہ لی گئیں تو صوبے بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور ہر جمہوری و قانونی آپشن استعمال کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

Scroll to Top