راولاکوٹ کے علاقے پراٹ سے تعلق رکھنے والے منتخب کونسلر اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے بانی ممبر شوکت حسین سدوزئی نے کالعدم ایکشن سے لاتعلقی اختیار کی ہے اورنوجوانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس انتشاری تحریک سےدور رہیں۔
راولاکوٹ کے علاقے پراٹ سے تعلق رکھنے والے منتخب کونسلر اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے بانی ممبر شوکت حسین سدوزئی نے کالعدم ایکشن سے لاتعلقی اختیار کی ہے اورنوجوانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس انتشاری تحریک سےدور رہیں۔
شوکت حسین سدوزئی نے کہا کہ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا بانی ممبر ہوں، ہماری بنیادی تحریک آٹا اور بجلی سے متعلق تھی ، ہمارے زیادہ ترمطالبات پورے ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاںتک مہاجرین کی 12نشستوں کا معاملہ ہے وہ عوامی نہیں آئینی مسئلہ تھا،مذاکرات میں کالعدم ایکشن کی طرف سے غیر ضروری ضداور ہٹ دھرمی دکھائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ: سریاب مل کے علاقے میں کالعدم بی ایل اے کا مدرسے پر دستی بم حملہ، 2 بچے شہید، ایک زخمی
شوکت حسین سدوزئی نے کہا کہ وقت کیساتھ پرامن تحریک مسلح جدوجہد میں بدل گئی اور دوسرے اضلاع کے لوگ راولاکوٹ میں سٹیج لگا کر ہمارے آبائواجداد کو گالیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا افسوس ہے اور میں شرمندہ ہوں کہ اس پلیٹ فارم کوریاست مخالف نعروں اور بیانیے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے میں بطور منتخب کونسلر ریاست اور پاکستان مخالف بیانیہ کی حمایت نہیں کرسکتا ہوں۔
شوکت حسین سدوزئی نے کہا کہ میں نادم اور شرمندہ ہوں اور کالعدم ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں اور نوجوانوں سے تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس انتشاری تحریک سے دور رہیں۔

کالعدم ایکشن کمیٹی کو ایک اور جھٹکا، نامزد عبور ی کور ممبر علی رضا ایڈووکیٹ نےعلیحدگی اختیار کر لی
کالعدم ایکشن کمیٹی کی طرف سے نامزد کئے گئے عبوری کور ممبر علی رضا سبزواری ایڈووکیٹ نے کہا کہ مجھے میرے دوست سہیل اقبال سے معلوم ہوا کہ میرانام کالعدم ایکشن کمیٹی کی طرف سے کور ممبر کیلئے چل رہا ہے جس پر میںنے انہیں کہا تھا کہ اس کی تردید کریں۔
علی رضا سبزواری نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے مجھ سے کوئی مشاورت نہیں کی نہ ہی کسی ذمہ دار نے مجھے بتایا، مجھےسوشل میڈیا سے ہی معلوم ہوا ہے،میں منتخب ضلع کونسلرہوں اورپیپلزپارٹی کی مہم چلا رہا ہوں، میرا کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی ہو یا کوئی بھی ایسی تحریک جس کا ایجنڈا چند لوگوں تک محدود، مخصوص منائنڈ سیٹ کی مداخلت ہواس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں،پاکستان پیپلزپارٹی کیساتھ ہمارا تعلق جاری تھا ، جاری ہے اور جاری رہے گا۔





