خیبر پختونخوا اسمبلی کے مراعات قانون پر دستخط کے موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی کے تحریری اعتراضات سامنے آگئے ہیں۔
گورنر نے سپیکر صوبائی اسمبلی کے نام اپنے نوٹ میں موجودہ قومی اور عالمی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر قانون کے مالیاتی اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل درآمد کے دوران صوبائی اسمبلی کی فنانس کمیٹی وزیراعظم کے 14 نکاتی کفایت شعاری پروگرام پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران کے سرکاری اخراجات میں فوری اور نمایاں کمی کی جائے، ایندھن کے استعمال کے لیے سخت کوٹہ مقرر کیا جائے اور تمام غیر ضروری مراعات و اضافی تعیشات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
My observations on the KP Privileges Bill have been on record since May 2026, when it was presented to me for assent. Had clearly stated that no law should become a means of expanding privileges when the people of Pakistan, especially the people of KP, were being asked to… pic.twitter.com/4gcJmjRSCK
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) July 10, 2026
اپنے خط میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے خطے کی نازک صورتحال، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی معاشی عدم استحکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں صوبے کو سخت مالیاتی نظم و ضبط اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراعات کا بل کیسے منظور ہوا؟ گورنر خیبرپختونخوا نے بڑا سوال اٹھا دیا
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی قانون سازی اور مراعات کا نظام وفاقی حکومت کے معاشی ہنگامی فریم ورک سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
گورنر نے صوبائی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ مذکورہ اصولوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے قانون کے انتظامی اور مالیاتی طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ لے۔





