پشاور ہائی کورٹ کا خیبر پختونخوا میں جنگلات کی کٹائی پر اظہارِ تشویش، حکومت سے ایک ماہ میں جواب طلب

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی جنگلات کی کٹائی اور پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

جسٹس ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بینچ نے جنگلات کی کٹائی کے خلاف دائر درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔

عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ہوٹلوں کی تعمیر پر کوئی قانونی پابندیاں عائد کی گئی ہیں یا نہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پہاڑی سیاحتی مقامات پر بے ہنگم شہری آبادکاری اور وادیوں میں غیر منصوبہ بند ہوٹلوں کی تعمیر جنگلات کی تیزی سے کٹائی کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈبلیو ایس ایس پی کے 1800 ملازمین کا مستقبل، پشاور ہائیکورٹ کا اہم حکم

عدالت نے ریمارکس دیے کہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اور آباد علاقوں میں جنگلات کی کٹائی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور بظاہر صوبائی حکومت اس ماحولیاتی بحران سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے مقامی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ حمزہ جمشید جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اسد جان درانی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

Scroll to Top