کالام بازار میں گاڑیوں کا رش اور تجاوزات، سیاحوں اورمقامی لوگوں کو شدید مشکلات

اکرام صدیقی

وادی کالام کا مرکزی مال روڈ اور مین بازار ان دنوں غیر قانونی تجاوزات، بے ہنگم پارکنگ اور ناقص انتظامی منصوبہ بندی کے باعث شدید مسائل کا شکار ہےجس سے مقامی شہریوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کو روزانہ کی بنیاد پر سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انتظامیہ کی مبینہ غفلت کی وجہ سے اس خوبصورت سیاحتی مقام کا پورا تنظیمی ڈھانچہ درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور مقامی معیشت پر بھی اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فٹ پاتھوں پر ریڑھی بانوں، عارضی اسٹالز، دکانوں کے باہر حد سے تجاوز کر کے رکھے گئے تجارتی سامان اور بعض ہوٹل مالکان کے غیر قانونی قبضوں کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے راستے بند ہو چکے ہیں۔

مقامی خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت سیاحوں کو فٹ پاتھوں کے بجائے گاڑیوں کے لیے مختص سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ سیاحتی سیزن کے دوران بدترین ٹریفک جام بھی روز کا معمول بن چکا ہے جس سے قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔

اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی شہریوں اور دور دراز سے آئے ہوئے سیاحوں نے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ سے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بازار اور مال روڈ سے ہر قسم کی تجاوزات کا بلاامتیاز خاتمہ کیا جائے، گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ کو روکنے کے لیے مناسب پارکنگ ایریاز قائم کیے جائیں، ریڑھی بانوں کو ایک منظم طریقہ کار کے تحت الگ سے وینڈنگ زونز میں منتقل کیا جائے اور فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے بحال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : سوات میں غیر قانونی زمرد کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

شہریوں کا ماننا ہے کہ ان ہنگامی بنیادوں پر کیے جانے والے فیصلوں کے بغیر کالام کے سیاحتی حسن، شہری نظم و ضبط اور کاروباری ساکھ کو بچانا ناممکن ہو چکا ہے۔

Scroll to Top