پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ

قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے باوجود پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے سرکاری گاڑیاں اور مراعات لینے کا انکشاف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے زیر استعمال تاحال سرکاری گاڑیاں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد ارکان بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی نہ صرف سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں بلکہ ان گاڑیوں کے ساتھ ماہانہ 320 لیٹر پیٹرول کی مراعات بھی حاصل کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رولز کے مطابق چیئرمین کمیٹی یا ان کے آفس کو ایک ڈرائیور، ایک نائب قاصد اور ایک پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) کی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے پاس اس وقت قومی اسمبلی کی 8 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ہے جن سے ارکان استعفے دے چکے ہیں۔ان قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں میں محمد عاطف، جنید اکبر، خواجہ شیراز اور عامر ڈوگر شامل ہیں، جنہیں بطور چیئرمین یہ سرکاری مراعات دی گئی تھیں۔

آج پی ٹی آئی کے رکنِ اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل سرکاری گاڑی میں خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد پہنچے۔ وہاں جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کے باوجود ابھی تک سرکاری گاڑی اور دیگر مراعات کیوں واپس نہیں کیں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ثناء اللہ مستی خیل نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی طرف سے گاڑی واپس کر دی تھی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے گاڑی لینے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق اسپیکر کا کہنا تھا کہ جب تک ارکان کے استعفے باقاعدہ طور پر منظور نہیں کیے جاتے تب تک گاڑیاں واپس نہیں لی جا سکتیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کی کارکردگی اس وقت زیرو ہے، پارٹی صرف عمران خان کے نام پر سیاست کر رہی ہے،مشتاق احمدغنی

ثناء اللہ مستی خیل نے مزید کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے احکامات کے پابند ہیں اور اس وقت ہماری تمام تر توجہ بانی کی رہائی کی کوششوں پر مرکوز ہے اس لیے ہمارے لیے یہ مراعات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے کمیٹیوں سے استعفے دے دیے ہیں اور ہمارے تمام ساتھی ہر طرح کی پریشانیوں اور چیلنجز کے باوجود متحد کھڑے ہیں۔

Scroll to Top