امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کی دوسری لہر کا آغاز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان ایرانی عسکری صلاحیتوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
At 3 p.m. ET, U.S. forces launched operations for a second wave of strikes today against Iran. The strikes are targeting Iranian military capabilities used to threaten vessels freely transiting through the Strait of Hormuz, an international waterway vital to global commerce. The…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 15, 2026
سینٹکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے خطے میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدر کے احکامات پر کی جا رہی ہے اور اس کے ذریعے ایران کو اپنی سرگرمیوں کا جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق دوسری لہر کے حملوں کا آغاز امریکی مشرقی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے کیا گیا، جس میں ایرانی فوجی تنصیبات اور عسکری صلاحیتوں کو ہدف بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب:ریاض میں گیس سلنڈر دھماکا، 6 پاکستانی جاں بحق
تاہم فوری طور پر ان حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق اس اہم بحری راستے پر جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے، جبکہ امریکی فوج کی حالیہ کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔





