سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے جیل میں ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے جیل انتظامیہ سے مکمل ریکارڈ اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان سے اب تک کتنی ملاقاتیں ہوئیں اور کن تاریخوں پر ہوئیں، اس حوالے سے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی، اس لیے تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کو درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض ہے، کیونکہ ہائی کورٹ کے متفقہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عمران خان سے ہونے والی تمام ملاقاتوں کی تفصیلات، متعلقہ ریکارڈ اور جامع رپورٹ تین ہفتوں کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائے۔
عدالت نے مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے جیل حکام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔





