حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا روزانہ (ڈیلی پرائسنگ) نظام نافذ کر دیا ہے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام کی تفصیلات سامنے آگئیں

حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا روزانہ (ڈیلی پرائسنگ) نظام نافذ کر دیا ہے جس کے تحت اب عالمی مارکیٹ اور درآمدی لاگت کے مطابق ورکنگ ڈیز میں روزانہ قیمتیں مقرر کی جائیں گی۔

وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اعلان صرف پیر سے جمعہ تک کیا جائے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں برقرار رہیں گی۔ اس خودکار نظام کے لیے اب وزیر اعظم یا وفاقی کابینہ سے الگ منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں گزشتہ سات ورکنگ ڈیز کے دوران خام تیل کی اوسط قیمتوں اور لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ تاہم پیٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور آئل کمپنیوں کے مارجن میں ردوبدل کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہی رہے گا۔

درآمدی پریمیم کے لیے واضح طریقہ کار طے کیا گیا ہے جس کے تحت پی ایس او کے حالیہ کارگو کی لاگت شامل کی جائے گی، اور کارگو نہ ہونے کی صورت میں پورے سال کے اوسط پریمیم کو بنیاد بنایا جائے گا۔ حکومت نے اس نئے نظام کے لیے ابتدائی طور پر نو ماہ کا ٹرائل پیریڈ مقرر کیا ہے۔

نئے نظام کے ساتھ ہی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں یا پٹرول پمپس کے خلاف ایف آئی اے، آئی بی اور ضلعی انتظامیہ فوری کارروائی کرتے ہوئے لائسنس منسوخ کر سکیں گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ڈیلی پرائسنگ میکانزم کا بنیادی مقصد پیٹرولیم مارکیٹ کو شفاف بنانا، عالمی قیمتوں کا فائدہ بروقت صارفین تک پہنچانا اور مارکیٹ سے مصنوعی قلت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔

Scroll to Top