اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال پر ردعمل دیتے ہوئے پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔
انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے معاملے پر کہا کہ جنگ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں روزانہ تبدیلیاں آ رہی ہیں، تاہم حکومت جنگ بندی کے قیام اور تیل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت اب بھی سات روز کی اوسط قیمتوں کے فارمولے کے مطابق نرخ مقرر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں روزانہ پانچ ڈالر کا اضافہ نہیں ہوگا بلکہ معمولی کمی یا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ آج پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن کے نمائندے چیئرمین اوگرا سے ملاقات کریں گے، جہاں ان کے جائز مطالبات پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے وقت درکار ہے اور اگر ڈیلرز کو کسی سہولت کی ضرورت ہوئی تو حکومت اس پر بھی غور کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی آج بھی جنگ سے پہلے والی سطح پر برقرار ہے۔ اگر حکومت لیوی میں مزید کمی کرنا چاہے تو اس کے لیے معیشت کی دستاویزی شکل (ڈاکومنٹیشن) ضروری ہے تاکہ ہر شخص اپنے جائز منافع پر ٹیکس ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف پی ایس سی نے سی ایس ایس امیدواروں سے متعلق اہم وضاحت جاری کر دی
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اپنے دوستوں کے ذریعے فریقین کو معاملات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امریکی شراکت داروں کو بھی اس حوالے سے قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات مستقل جنگ بندی کی جانب بڑھیں گے تاکہ وسائل کا مزید ضیاع نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیٹرول ڈیلرز کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے، تاہم ڈیلرز نے ہڑتال کا فیصلہ جلد بازی میں کیا۔
ان کے بقول حکومت کا مؤقف بھی سمجھنا چاہیے، جبکہ ڈیلرز کو مارجن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے دوران بروقت مصنوعات کی فراہمی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے۔





