چترال: پاکستانی کوہ پیماؤں نے 27 سال بعد ہندوکش کے تاریخی پھارگام آن پاس کو دوبارہ عبور کر کے اہم اعزاز حاصل کر لیا۔
5 ہزار 100 میٹر بلند پھارگام آن پاس کی چوٹی پاکستانی ٹیم نے کامیابی سے سر کر لی، جبکہ اس تاریخی مہم میں پہلی مرتبہ خواتین کوہ پیماؤں نے بھی چوٹی تک کامیاب رسائی حاصل کی۔
چترال سے تعلق رکھنے والی تین بہنوں مہروش اختر، اسمیل روز اور مدھو شالا اختر نے اس مہم میں شرکت کر کے نئی تاریخ رقم کی۔
کامیاب مہم کا حصہ بننے والی ٹیم میں کامران خان، مہروش اختر، ثمر خان، نعمان خان، نورالرحمان، ذوہیب خان، عمر خطاب شیرانی، صہنیہ بابر، آمنہ شبیر اور مدیحہ سید شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : جماعت اسلامی کا ملک بھر میں احتجاج کا اعلان
یہ مہم خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے تعاون سے اپر چترال میں مکمل کی گئی۔ مہم کے دوران 1975 میں جاں بحق ہونے والے آسٹریا کے کوہ پیما جارج کرونبرگر کی یادگار بھی دریافت کی گئی۔
کوہ پیماؤں نے گلیشیئرز، برفانی ڈھلوانوں، دشوار گزار پتھریلے راستوں اور برفانی تودوں کے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے مہم کامیابی سے مکمل کی۔
مہم کے گائیڈ زمرد خان نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پھارگام آن پاس کا راستہ ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے، جس نے اس مہم کو مزید چیلنجنگ بنا دیا۔





