خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بلدیاتی قانون میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ایک مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی نئی ترمیم کے تحت ویلج کونسل کی آبادی کی حد 30 ہزار سے 40 ہزار مقرر کی گئی ہےجو کہ آئینی حدود سے تجاوز ہے۔

خط میں واضح کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت حلقہ بندیاں کرنا صرف اور صرف الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اور قانون سازی کے ذریعے الیکشن کمیشن کے آئینی اختیارات کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آبادی کی اس نئی حد کی وجہ سے ویلج کونسلز کی ازسرنو حلقہ بندی کا عمل شدید متاثر ہوا ہے جس کے باعث صوبے میں بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہونے کا قوی خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن کا 15 روز بعد دوبارہ مشاورتی اجلاس بلانے کا فیصلہ

اس کے علاوہ موجودہ کونسلز کی تعداد سے متعلق بھی شدید قانونی ابہام پیدا ہو چکا ہے۔

Scroll to Top