خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں ولج اور نیبر ہُڈ کونسلز کی ازسرنو حلقہ بندیوں کا آغاز

اعجاز آفریدی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں ولج اور نیبر ہُڈ کونسلز کی ازسرنو حلقہ بندیوں کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا ہے، جس کے لیے اہم نوٹیفکیشنز اور ضروری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جن اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل شروع کیا جا رہا ہے ان میں خیبر، کرم، مانسہرہ، ملاکنڈ، شانگلہ، اپر چترال اور باجوڑ شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان اضلاع میں حلقہ بندیوں کے عمل کی نگرانی اور تکمیل کے لیے ڈی لیمیٹیشن کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔

ان کمیٹیوں میں متعلقہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو کنوینر جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز اور لوکل گورنمنٹ کے افسران کو اراکین مقرر کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے ہدایت جاری کی ہے کہ حلقہ بندیوں کی حتمی فہرستوں کی اشاعت تک کمیٹیوں میں شامل افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں پر پابندی عائد رہے گی، تاکہ عمل کو شفاف اور بلا رکاوٹ مکمل کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوامیں بلدیاتی اداروں کے لیے 72 کروڑ سےزائد کے فنڈز جاری

اعلامیے کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیوں پر موصول ہونے والے اعتراضات کی سماعت اور فیصلوں کے لیے ڈی لیمیٹیشن اتھارٹیز بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔

پشاور، کوہاٹ، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے ریجنل الیکشن کمشنرز اپنے متعلقہ علاقوں میں اعتراضات کی سماعت کر کے فیصلے کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے ایک ڈائریکٹو کے ذریعے ان 7 اضلاع کی انتظامی اور ریونیو حدود، تحصیلوں اور سٹی کونسلز کی حدبندیوں کو حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے تک منجمد کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

حکام کے مطابق حدود کو منجمد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حلقہ بندیوں کے دوران کسی بھی انتظامی تبدیلی کے باعث عمل متاثر نہ ہو اور نئی حلقہ بندیوں کا مرحلہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

Scroll to Top