میرپور: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میرپور ڈویژن کے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور دھاندلی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی اور مبینہ طور پر تبدیل کی گئی نشستیں واپس لے کر رہے گی۔
قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس انتخابی بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ میرپور ڈویژن میں پارٹی نے 8 نشستیں حاصل کی تھیں، جنہیں مبینہ دھاندلی کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ چوہدری یاسین کے حلقے میں 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا گیا، جس کے حوالے سے ویڈیو ثبوت اور فارم ان کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
بلاول بھٹو نے کوٹلی کے بعض حلقوں میں پولنگ ٹرن آؤٹ پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہاں عام حالات میں ووٹنگ کی شرح 30 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے، وہاں 99 فیصد ٹرن آؤٹ ظاہر کیا گیا، جس کی تحقیقات ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ہنگو حملہ: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نوٹس، شہداء کو خراجِ عقیدت، آئی جی سے رپورٹ طلب
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بندوق کے زور پر انتخابات جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم عوام ایسے ہتھکنڈوں کو مسترد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار عوام کے ووٹ سے آنا چاہیے، کسی چور دروازے سے نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چوہدری لطیف اکبر کو مبینہ طور پر دباؤ کے ذریعے الیکشن ہرانے کی کوشش کی گئی تو پیپلز پارٹی اس پر خاموش نہیں رہے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ جلسے میں کشمیر کے مستقبل سے متعلق واضح پیغام دیں گے اور کہا کہ کشمیر کے فیصلے کا اختیار صرف کشمیری عوام کے پاس ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی عمل سے متعلق تحفظات دور نہ کیے گئے تو اس کے سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی ایسے انتخابی عمل کو قبول نہیں کرے گی جس پر عوامی اعتماد متزلزل ہو۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ احتجاج ختم کیا جائے، حکومت ترتھ کمیشن قائم کرے گی، اور اگر کمیشن نے وزیراعظم فیصل راٹھور کو ذمہ دار قرار دیا تو پیپلز پارٹی اس فیصلے کو قبول کرے گی۔





