سلمان یوسفزئی
محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں مبینہ ہراسگی، بدانتظامی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ انکوائری چارج نرس شکیلہ ناز کی شکایت پر سیکریٹری صحت کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیکریٹری صحت خالد پرویز کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر انیسہ آفریدی اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی ڈاکٹر لیلیٰ زیب کمیٹی کی دیگر ارکان ہوں گی۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ کے خلاف عائد تمام الزامات کا غیر جانبدارانہ اور تفصیلی جائزہ لے۔ اس دوران شکایت کنندہ، متعلقہ افسران اور دیگر فریقین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ ریکارڈ، سرکاری دستاویزات، خط و کتابت، ڈیوٹی روسٹر، دفتری فائلوں اور دیگر متعلقہ شواہد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو تحقیقات کے دوران ضروری ریکارڈ اور شواہد طلب کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ کمیٹی ہر الزام کی حقیقت، دستیاب شواہد اور قانونی حیثیت کا تعین کرے گی جبکہ شکایت کے ازالے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر الزامات ثابت نہ ہوئے تو کمیٹی اپنی رپورٹ میں واضح رائے دے گی جبکہ الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے دیگر متعلقہ معاملات بھی انکوائری کا حصہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق بڑا فیصلہ
محکمہ صحت نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی جامع رپورٹ 15 روز کے اندر محکمہ صحت کو پیش کرے۔





