تابوت نہیں، ایک المیہ منظر: شانگلہ میں مزدوروں کی میتوں کی منتقلی پر غم و غصہ

شانگلہ: بلوچستان کے علاقے سورینج کے قریب کوئلہ کان میں میتھین گیس دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شانگلہ کے مزدوروں کی میتوں کو مبینہ طور پر مسافر گاڑیوں کی چھتوں پر منتقل کیے جانے کے مناظر سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

مقامی افراد اور لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ جاں بحق مزدوروں کی میتیں آبائی علاقوں تک پہنچانے کے لیے مناسب سرکاری سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث انہیں انتہائی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے سورینج کول فیلڈ میں کوئلہ کان کے اندر میتھین گیس دھماکے کے بعد کان بیٹھنے اور آگ لگنے سے بڑا سانحہ پیش آیا تھا۔

حادثے میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 28 مزدور جاں بحق ہوئے، جن میں 23 نوجوانوں کا تعلق ایک ہی گاؤں میان کلے (پیر آباد) سے تھا، جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق مجموعی طور پر متعدد کان کن متاثر ہوئے اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ جن مزدوروں نے اپنی زندگی خاندانوں کی کفالت کے لیے خطرناک کانوں میں کام کرتے ہوئے گزار دی، ان کے جسدِ خاکی کو بھی عزت و احترام کے ساتھ منتقل کرنے کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان کوئلہ کان حادثہ: شانگلہ کے 28 نوجوان جاں بحق، ایک گاؤں میں صفِ ماتم بچھ گئی

واقعے پر شانگلہ کے شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار اداروں سے سوال کیا کہ ہنگامی حالات میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیوں یقینی نہیں بنائی جا سکی۔

مظاہرین نے صوبائی حکومت اور سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے دعوے تو کیے جاتے ہیں، تاہم ایسے مواقع پر عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔

خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے بھی عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات، خاص طور پر ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب حکومتی موقف سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال کی مکمل وضاحت ہو سکے گی۔

شانگلہ کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کی فوری مدد کی جائے، حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

Scroll to Top