بلوچستان کوئلہ کان حادثہ: شانگلہ کے 28 نوجوان جاں بحق، ایک گاؤں میں صفِ ماتم بچھ گئی

بلوچستان: بلوچستان کے علاقے سورینج کے قریب کوئلہ کان میں میتھین گیس دھماکے کے نتیجے میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 28 نوجوان مزدور جاں بحق ہو گئے، جن میں سے 23 کا تعلق ایک ہی گاؤں میان کلے (پیر آباد) سے تھا۔

حادثے کے بعد شانگلہ بھر میں سوگ کی فضا پھیل گئی، جبکہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین نے حفاظتی انتظامات کی مبینہ عدم موجودگی اور حکومتی غفلت پر شدید احتجاج کیا۔

ایک ہی گاؤں کے 23 نوجوان موت کی وادی میں چلے گئے

شانگلہ کول مائن ورکرز ایسوسی ایشن کے مطابق جاں بحق ہونے والے 28 مزدوروں میں 23 کا تعلق میان کلے (پیر آباد) سے، 2 کا کانہ سے، جبکہ ایک، ایک مزدور کا تعلق بڑا اور گاتا بیلی بابا سے تھا۔

ایک ہی گاؤں سے اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی اموات کے باعث تقریباً ہر گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے، کئی خاندان اپنے کفیل نوجوانوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

17 سے 25 سال کے نوجوان، کئی آپس میں رشتہ دار تھے

ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار کے مطابق جاں بحق مزدوروں کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں کئی نوجوان آپس میں قریبی رشتہ دار اور کزن تھے، جبکہ بعض ایسے بھی تھے جن کے والد پہلے ہی کوئلہ کانوں کے حادثات میں جان گنوا چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : سورینج میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکا، 18 کان کن جاں بحق

عابد یار نے الزام عائد کیا کہ حادثہ بنیادی حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کان میں مناسب وینٹیلیشن سسٹم موجود نہیں تھا، جس کے باعث میتھین گیس جمع ہوئی اور دھماکہ پیش آیا۔

3 سگے بھائی بھی جاں بحق، لواحقین کا احتجاج

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں تین سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے شکوہ کیا کہ لاشوں کی منتقلی کے لیے مناسب سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث انہیں اپنے پیاروں کی میتیں ذاتی خرچ پر وین کے ذریعے آبائی علاقوں تک منتقل کرنا پڑیں۔

شانگلہ انتظامیہ کے مطابق ایک میت جمعہ کی شام ضلع پہنچ گئی تھی، جبکہ دیگر لاشیں رات گئے اور ہفتے کی صبح تک پہنچنے کی توقع تھی۔

32 لاشیں نکال لی گئیں، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

ریسکیو حکام کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع سورنگ کول فیلڈ میں میتھین گیس دھماکے کے بعد آگ لگنے اور کان بیٹھنے سے دو کانیں متاثر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں : افسوسناک خبر، کوئٹہ میں کوئلے کی کان بیٹھ گئی

حکام کے مطابق دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 34 مزدور موجود تھے۔ چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان محمد عاطف کے مطابق اب تک 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 2 مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

دھماکے سے قریبی دوسری کان بھی متاثر ہوئی جہاں 12 مزدور کام کر رہے تھے۔

روزگار کی کمی نوجوانوں کو خطرناک کام پر مجبور کر رہی ہے

شانگلہ کول مائن ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار کا کہنا ہے کہ علاقے میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوان مجبوراً خطرناک کوئلہ کانوں میں کام کرتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں۔

ان کے مطابق یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ درجنوں خاندانوں، یتیم بچوں، بیواؤں اور ماؤں کے لیے عمر بھر کا صدمہ ہے۔

بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات، نگرانی کے نظام اور مزدوروں کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top