امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت سے نجات دلانے کے لیے قیمتوں میں فوری کمی کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی انتظامیہ برسرِ اقتدار نہ ہوتی تو امریکا کی تیل کی صنعت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہوتی، تاہم ان کی پالیسیوں نے توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھا۔
صدر ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی انتظامیہ توانائی کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے اور صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، ملک میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان
کاروبار کے دوران عالمی معیار کا برینٹ خام تیل تقریباً 4.2 فیصد کمی کے بعد 82.92 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(WTI) 5 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 78.97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔





