حیات آباد میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ، شہری عدم تحفظ کا شکار

پشاور: پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

رہزنی اور چھیننے کی مختلف وارداتوں کے دوران متعدد افراد نقدی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیا سے محروم ہو گئے، جبکہ متاثرین نے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی وارداتوں کے باعث وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پولیس کی کارروائیاں زیادہ تر مقدمات کے اندراج تک محدود ہیں اور اب تک بیشتر وارداتوں میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے، نہ ہی مسروقہ سامان برآمد کیا جا سکا۔

متاثرہ شہری امتیاز احمد، جو سوات کے رہائشی ہیں، نے حیات آباد پولیس کو بتایا کہ وہ پی آئی سی اسپتال کے گیٹ کے قریب موجود تھے کہ اس دوران ایک کار میں سوار تین افراد نے انہیں یرغمال بنا کر 29 ہزار روپے نقد چھین لیے اور فرار ہو گئے۔

ایک اور واقعے میں احمد، سکنہ ارباب یونیورسٹی روڈ، نے رپورٹ درج کرائی کہ شہاب الدین جنرل اسپتال کے قریب موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان سے اور ان کے چچا زاد سے اسلحہ کے زور پر قیمتی موبائل فون چھین لیے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں کرپٹ اور ناقص افسران کی فہرست تیار کرنے کا حکم

اسی طرح فیز 6 حیات آباد کے رہائشی محمد خضر نے پولیس کو بتایا کہ وہ بی آر ٹی اسٹاپ کے قریب موبائل فون پر بات کر رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزم ان کا موبائل فون چھین کر فرار ہو گیا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق حیات آباد کی باؤنڈری وال مختلف مقامات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر اور نشے کے عادی افراد علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں اور وارداتوں کے بعد آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب رہتے ہیں۔

حیات آباد پولیس کے مطابق تمام واقعات کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Scroll to Top