کاشف عزیز
پشاور : صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے کاکشال، گلدرہ چوک میں مبینہ خودکشی کا دردناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک نوجوان وکیل پراسرار حالات میں جاں بحق ہو گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت فرحان خان ایڈوکیٹ کے نام سے ہوئی ہے، جو پشاور میں وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق فرحان خان نے پستول سے فائرنگ کر کے مبینہ طور پر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ خودکشی کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہیں، تاہم واقعے کی تمام زاویوں سے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں میٹرک امتحان میں ناکامی پر طالب علم نے مبینہ طور خودکشی کرلی
یاد رہے کہ کل خزانہ میں میٹرک کے نتائج میں کم نمبر آنے پر طالبعلم کی مبینہ خودکشی کرلی ، پولیس نے واقعے کا روزنامچہ تھانہ خزانہ میں درج کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پشاور کے علاقے خزانہ میں ایک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں میٹرک کے سالانہ امتحان کے نتائج میں کم نمبر آنے پر دلبرداشتہ نوجوان طالبعلم نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
پولیس نے بتایا کہ افسوسناک واقعہ تھانہ خزانہ کی حدود میں پیش آیا، جہاں عزیر نامی طالبعلم نے اپنے گھر کے کمرے میں مبینہ طور پر گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی کی۔
متوفی طالبعلم کے والد نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ گزشتہ روز ثانوی تعلیمی بورڈ کی جانب سے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا، نتائج میں توقع سے کم نمبر آنے پر عزیر شدید ذہنی دباؤ اور رنج و غم کا شکار تھا، اور اسی دلبرداشتگی میں اس نے یہ خوفناک اور انتہائی قدم اٹھایا۔
ترجمان پولیس کے مطابق واقعے کا باقاعدہ روزنامچہ تھانہ خزانہ میں درج کر لیا گیا ہے اور پولیس تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعے کی مزید قانونی و تفتیشی کارروائی انجام دے رہی ہے۔





