غیر ملکی مالی معاونت کے منصوبوں میں بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا روڈز پروجیکٹ کی تحقیقات اور مساوی خریداری کے جائزے کا حکم دے دیا ۔
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں غیر ملکی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور مالی شفافیت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی تعمیر، کراچی موبلٹی پروجیکٹ (بی آر ٹی یلو لائن) اور اکرم واہ کینال پروجیکٹ زیرِ بحث آئے،۔خیبر پختونخوا کے مواصلاتی منصوبوں میں بولی کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اراکین نے الزام عائد کیا کہ ٹھیکوں کو مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لیے مختلف پیکجز میں تقسیم کیا گیا۔
کمیٹی نے ‘سنگل اسٹیج ٹو انویلپ کے بجائے سنگل اسٹیج ون انویلپ کا طریقہ کار اپنائے جانے پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے پی پی آر اے قواعد اور شفافیت کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ صوبائی حکام نے اعتراف کیا کہ سب سے کم بولی دینے والے کے تکنیکی جائزے سے قبل ہی مالی بولیاں کھول دی گئی تھیں، جس پر اکنامک افیئرز ڈویژن ای اے ڈی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہنگامی نوعیت کے پیش نظر عالمی بینک سے اس کی اجازت طلب کی تھی ۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے چند مخصوص ٹھیکیداروں کو ہی متعدد ٹھیکے ملنے پر ای اے ڈی کو جامع تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور اضافی فنڈز کی وصولی کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی عالمی بینک سے اس عمل کو غلط خریداری کے طور پر جائزہ لینے کی درخواست کرنے، بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کے ساتھ اجلاس بلا کر خیبر پختونخوا حکومت کو تحقیقات سے آگاہ کرنے کی سفارش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں کرپشن کا بازار گرم ہے، پوسٹنگ، ٹرانسفر رشوت دیئے بغیر ممکن نہیں، ڈاکٹر عباد
اجلاس میں کراچی موبلٹی پروجیکٹ کی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بی آر ٹی یلو لائن کی تکمیل دسمبر 2028ء تک متوقع ہے اور سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 250 الیکٹرک بسیں حاصل کرے گی، جس پر کمیٹی نے مکمل شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب اکرم واہ کینال پروجیکٹ کی اہم دستاویزات کی عدم فراہمی پر ناخوشی کا اظہار کیا گیا، جس پر حکام نے عالمی بینک کے قواعد کا حوالہ دیا، تاہم کمیٹی نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی واضح ٹائم لائن اور بولی کے عمل کی سخت نگرانی کا حکم دیا۔





