برطانیہ کی ویزا پالیسی کا دوہرا معیارسامنے آگیا ،برطانوی حکومت نے ایک سال میں لاکھوں درخواستیں مستردیں اور اس مد میں پاکستانیوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا ۔
لندن: برطانیہ کی جانب سے ویزا درخواستوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی اور ناقابلِ واپسی فیسوں کے نام پر کروڑوں پاؤنڈز سمیٹنے کے عمل نے شفافیت اور انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ نے صرف ایک سال کے دوران دنیا بھر میں 5 لاکھ 85 ہزار سے زائد وزیٹر ویزا درخواستیں مسترد کیں۔،فی درخواست 127 پاؤنڈ کی موجودہ فیس کے حساب سےویزا جاری کیے بغیر ویزا فیس کی مد میں تقریباً 74 ملین پاؤنڈ وصول کر لیے گئے۔
اس سخت ویزا پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، صرف پاکستان سے 72 ہزار سے زائد وزیٹر ویزا درخواستیں مسترد کی گئیں، جس سے ناقابلِ واپسی فیس کی مد میں تقریباً 9.2 ملین پاؤنڈ (3 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کی بھاری رقم وصول کر لی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال اہم سیکیورٹی ضرورت سہی، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر رد کی جانے والی درخواستوں سے رقم بٹورنا ناانصافی ہے اور اس بات پر سوال اٹھاتا ہے کہ ویزا نہ ملنے کی صورت میں درخواست دہندہ پر اس قدر مالی بوجھ کیوں ڈالا جائے۔





