پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی معمار پاک فوج کے سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین اور عالمی مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت ان کے بہترین اسٹریٹجک ویژن اور مؤثر ملٹری ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے جس کی بدولت تینوں اسلامی ممالک کے درمیان اس اہم دفاعی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دفاعی اور فوجی روابط کو دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور نئی سفارتی راہیں کھولنے کے لیے کلیدی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی اور دفاعی ڈیٹرنس کے اصولوں پر مبنی ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی کی جانے والی جارحیت کو تینوں ریاستوں کے لیے یکساں خطرہ تصور کیا جائے گا۔
اس نوعیت کی کسی بھی جارحیت کے اثرات نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام، خوشحالی اور مستقبل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ نہ تو کوئی “مسلم نیٹو” ہے اور نہ ہی یہ کسی قسم کی ایٹمی ضمانت فراہم کرتا ہے بلکہ یہ رکن ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک انتہائی منطقی اور عملی قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہزادہ محمد بن سلمان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، احترام بھرے سیلوٹ کی تصویر وائرل
یہ پیشرفت کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، خود انحصاری اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ایک مثبت اقدام ہے جو امن کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کی نفی کرتا ہے۔





