ایف بی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس شامل نہ کرنے پر سخت اعتراض

ایف بی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس شامل نہ کرنے پر سخت اعتراض

محمداعجا زآفریدی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مارکیٹ ریٹ سسٹم میں سولر پینلز اور متعلقہ سامان پر 18 فیصد وفاقی سیلز ٹیکس شامل نہ کرنے پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے فنانس سیکرٹری کو مراسلہ ارسال کر دیا۔

پشاور: اف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ اس غفلت کے باعث وفاقی خزانے کو مسلسل مالی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ معاملہ فوری حل نہ ہونے کی صورت میں اسے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی ڈونر و قرضہ فراہم کرنے والے اداروں کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔

ریجنل ٹیکس آفس پشاور کے ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ ریٹ سسٹم 2025 میں انکم ٹیکس، صوبائی سیلز ٹیکس، اوور ہیڈ چارجز اور ٹھیکیدار کا منافع تو شامل کیا گیا ہے، تاہم 18 فیصد وفاقی سیلز ٹیکس کو شامل نہیں کیا گیا، جس کے باعث سرکاری خریداریوں پر وفاقی ٹیکس کی وصولی متاثر ہو رہی ہے۔

مراسلے کے مطابق یہ مسئلہ پہلی بار سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے قبل بھی متعدد بار صوبائی حکومت کو اس حوالے سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ کمشنر انکم ٹیکس نے 2 اپریل کو چیف سیکرٹری کو خط لکھا، گورنر خیبر پختونخوا نے 14 اپریل کو اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی، جبکہ خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ نے بھی تمام خریداری کرنے والے محکموں کو وفاقی سیلز ٹیکس کی وصولی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے، تاہم اس کے باوجود مارکیٹ ریٹ سسٹم میں مطلوبہ تبدیلی نہیں کی گئی۔

ایف بی آر نے مراسلے میں نشاندہی کی ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ طے کیا گیا تھا کہ سولر سامان پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے مطابق وفاقی سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا، لیکن بعد ازاں 3 جولائی کو جاری کیے گئے وضاحتی نوٹ کے بعد پہلے سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت پاکستان میں تمام ٹیکس ایبل سپلائیز پر 18 فیصد وفاقی سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے، جبکہ صوبائی سرکاری محکمے قانونی طور پر ود ہولڈنگ ایجنٹ ہیں اور انہیں ادائیگی کے وقت قانون کے مطابق ٹیکس کی کٹوتی کرنا ہوتی ہے۔ مارکیٹ ریٹ سسٹم میں اس ٹیکس کی عدم شمولیت سے نہ صرف وفاقی قوانین پر عمل درآمد متاثر ہو رہا ہے بلکہ سرکاری محکموں کو خریداری کے عمل میں بھی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

ایف بی آر نے یہ بھی کہا ہے کہ اکتوبر 2025 سے جنوری 2026 تک اس معاملے پر اعلیٰ سطح کے متعدد اجلاس، خط و کتابت اور ہدایات جاری ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے موثر اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔

مراسلے میں فنانس ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ ریٹ سسٹم میں فوری طور پر 18 فیصد وفاقی سیلز ٹیکس اور دیگر متعلقہ ٹیکس شامل کیے جائیں، موجودہ نظام کے تحت کی گئی تمام خریداریوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، اور وفاقی ٹیکس قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس معاملے پر مزید تاخیر کی گئی تو اسے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی ڈونر اداروں کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔

Scroll to Top