کاشف عزیز
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سانحہ 8 اگست ہماری تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں، جبکہ دس برس گزرنے کے باوجود شہداء کے اہل خانہ کو انصاف نہ ملنا ریاستی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
سانحہ 8 اگست کی دسویں برسی کے موقع پر اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کوئٹہ سانحے کے شہداء، جن میں بلال انور کاسی، باز محمد کاکڑ اور عسکر خان اچکزئی سمیت دیگر شامل ہیں، کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ دس برس قبل کوئٹہ میں وکلاء برادری کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور ایک پوری نسل کو ہم سے چھین لیا گیا۔ سانحہ 8 اگست صرف وکلاء برادری پر حملہ نہیں تھا بلکہ آئین، قانون، عدلیہ اور انصاف کے نظام پر بھی حملہ تھا۔
ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ دس سال گزرنے کے باوجود ریاست اس سوال کا تسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہے کہ اتنے بڑے سانحے کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اس ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک، عوام غیر محفوظ ہیں، ایمل ولی خان
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے ریاستی پالیسی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور دہشتگردی کے تدارک کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے تھے۔
اب یہ جاننا ضروری ہے کہ کمیشن کی سفارشات پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ دس سال بعد بھی حالات یہ ثابت کررہے ہیں کہ ریاست نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی ایک بار پھر خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے، جہاں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سیاسی کارکنان، وکلاء، علماء اور عام شہری مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کے عوام کو مزید تجربات اور ناکام ریاستی پالیسیوں کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ ریاست کو مذمتوں، تعزیتی بیانات اور وقتی آپریشنز کی سیاست سے نکل کر دہشتگردی کے خلاف واضح اور مستقل پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سینکڑوں ساتھیوں کی قربانیاں دی ہیں اور دہشتگردی کو کسی بھی صورت، نام یا جواز کے تحت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دہشتگرد دہشتگرد ہے، اس کے لیے اچھے اور برے کی تفریق یا سیاسی مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سوات میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر پولیس کا فوری ایکشن، باپ سمیت 5 افراد گرفتار
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ صرف پریس کانفرنسوں اور بیانات سے نہیں بلکہ واضح، مستقل اور بلاامتیاز پالیسی سے کیا جاسکتا ہے۔ دہشتگرد تنظیموں کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کا خاتمہ دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے شہداء کا خون عدلیہ، حکومت اور ریاستی اداروں پر قرض ہے۔ شہداء کی دسویں برسی پر مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے خون کو محض تاریخ کا ایک واقعہ نہ بننے دیا جائے، جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ذمہ داروں و سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر بلاامتیاز اور من و عن عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا۔





