حج 2027 کے لیے سرکاری اور نجی اسکیموں کی درخواستوں اور حج اخراجات کی وصولی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی اگست کے تیسرے ہفتے میں شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری حج اسکیم کے اخراجات عازمین تین طریقوں سے جمع کرا سکیں گے، عازمین ون لنک یا پی ایس آئی ڈی کے ذریعے رقم جمع کرانے کے علاوہ کریڈٹ کارڈ سے بھی ادائیگی کر سکیں گے جبکہ آن لائن چالان حاصل کرکے نقد رقم جمع کرانے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حج درخواستیں جمع کرانے اور واجبات کی ادائیگی کے قابل ہوں گے، سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستیں اور رقوم صرف حبیب بینک کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔
حج اخراجات دو مساوی اقساط میں وصول کیے جائیں گے، عازمین کو پہلی قسط میں مجموعی اخراجات کا نصف ادا کرنا ہوگا جبکہ بقیہ رقم دوسری قسط میں جمع کرائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق حج 2027 کے لیے صرف پہلے سے رجسٹرڈ عازمین ہی درخواستیں اور واجبات جمع کرا سکیں گے، سرکاری حج درخواستیں پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر وصول کی جائیں گی اور حج کوٹہ مکمل ہوتے ہی مزید درخواستوں کی وصولی روک دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پرائیویٹ حج کے لیے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ
سرکاری حج اسکیم میں لانگ اور شارٹ حج دونوں کے لیے درخواستیں وصول کی جائیں گی۔
دوسری جانب نجی حج اسکیم کے عازمین کے لیے بھی درخواستوں اور واجبات کی وصولی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
نجی اسکیم کے عازمین کو حج اخراجات کی ادائیگی کے لیے دو طریقوں کی سہولت حاصل ہوگی، وہ ون لنک یا پی ایس آئی ڈی کے ذریعے ادائیگی کر سکیں گے جبکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بھی حج اخراجات جمع کرانے کی سہولت ہوگی۔
حج 2027 کے لیے پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 مقرر کیا گیا ہے، اس میں سے 60 فیصد کوٹہ سرکاری حج اسکیم کے لیے مختص ہے، جس کے تحت ایک لاکھ 7 ہزار 526 عازمین فریضہ حج ادا کر سکیں گے۔
نجی حج اسکیم کے لیے 40 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ہزار 684 عازمین کو حج کی سہولت میسر ہوگی۔
ذرائع وزارتِ مذہبی امور کے مطابق حج واجبات کی ادائیگی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے سے ادائیگی کا عمل مزید آسان، تیز اور محفوظ بنایا گیا ہے۔
حج درخواست جمع کرانے سے لے کر واجبات کی ادائیگی تک تمام مراحل جدید اور شفاف نظام کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔





