اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ قیدِ تنہائی، علاج سے محرومی اور مواصلاتی بلیک آؤٹ سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے جیل ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر مختلف تفصیلات پیش کردی ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کو کسی تاریک کوٹھڑی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں 7 سیلز پر مشتمل ایک الگ بلاک فراہم کیا گیا ہے، جو 30 سے 35 قیدیوں کیلئے مختص بتایا جاتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس بلاک میں 57 بائی 14 فٹ راہداری، 35 بائی 37 فٹ لان، ورزش کا سامان، پلنگ اور دیگر سہولیات موجود ہیں، جبکہ کھانے میں ان کی پسند کے مطابق گوشت، چکن، ڈرائی فروٹس اور منرل واٹر بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان کے نام پر اربوں کما رہے ہیں، جلسے عوام کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں، ارباب عثمان خان
حکومت کا کہنا ہے کہ قیدِ تنہائی کے دعوے کے برعکس جیل ریکارڈ میں اب تک 198 ملاقاتوں کا اندراج موجود ہے، جن میں 900 سے زائد افراد، بشمول اہل خانہ، وکلا اور سیاسی رہنما، عمران خان سے ملاقات کرچکے ہیں۔
The sons of former Pakistan Prime Minister Imran Khan spoke to me on the third anniversary of his detention. Khan has been behind bars since August 2023. We reached out to the Government of Pakistan for comment on a number of the allegations. The full statement is also posted. pic.twitter.com/PoutmTeyV8
— Connect the World (@CNNConnect) August 7, 2026
سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران خان کی اہلیہ سے تازہ ترین ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔ حکومتی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی روز عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا پر بلیک آؤٹ سے متعلق دعوے سامنے آئے۔
طبی سہولیات کے حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ جیل ڈاکٹر کی جانب سے روزانہ تین مرتبہ معائنہ کیا جاتا ہے، جبکہ پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا آئی ٹرسٹ کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈز بھی تقریباً 30 سے زائد مرتبہ معائنہ کرچکے ہیں۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق آنکھوں کے مرض کے علاج کیلئے عمران خان کو 5 انٹرا وٹریل اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز بھی دیے گئے، جبکہ جولائی 2026 کے طبی معائنے کے مطابق ان کی صحت مستحکم قرار دی گئی۔
حکومت نے عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے ویزا نہ ملنے کے دعوے پر بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 12 کے تحت NICOP رکھنے والے افراد کو پاکستان آنے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حکومت کے مطابق اس معاملے کو سیاسی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
مواصلاتی رابطوں کے حوالے سے حکومتی مؤقف ہے کہ واٹس ایپ اور لینڈ لائن کالز کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے، جبکہ جیل ریکارڈ میں بیرون ملک اور پاکستان میں اہل خانہ سے رابطوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق آخری درج شدہ رابطہ 21 مارچ 2026 کو عمران خان کے بیٹے سے ہوا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں اور مواصلاتی رابطوں پر قواعد و ضوابط لاگو ہوتے ہیں اور کسی قیدی کو جیل کو غیر مشروط پریس کانفرنس یا سیاسی کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں : اڈیالہ جیل میں عمران خان کی قید سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع
حکومتی مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے طبی ریکارڈ سے متعلق معلومات کے افشا کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے عدالتی عمل اور طبی رازداری کو حکومتی پردہ پوشی قرار دینا درست نہیں۔
حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان کو کسی خصوصی قانونی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں۔
حکومتی بیان میں عالمی میڈیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی قید اور سہولیات سے متعلق سیاسی دعوؤں کی رپورٹنگ کے ساتھ حکومتی مؤقف اور دستیاب ریکارڈ کو بھی یکساں طور پر پیش کیا جائے۔
حکومت نے اپنے مؤقف کے حق میں 198 ملاقاتوں، 900 سے زائد ملاقات کرنے والوں، اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات، اہل خانہ سے رابطوں، تقریباً 30 طبی معائنے اور آنکھوں کے علاج کیلئے دیے گئے 5 انجیکشنز کو بطور شواہد پیش کیا ہے۔





