خیبر پختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا بنیادی ویژن تھااور ان کی حکومت آئینی اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اس اقدام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وضاحت کی کہ عمران خان کا موقف تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے ملک میں گورننس (حکمرانی) کا نظام بہتر ہو گا۔ تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی فیصلہ عوام کی منتخب حکومت اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہی کیا جائے۔
نئے انتظامی یونٹس کے معاشی و مالیاتی خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا”ایک نئے انتظامی یونٹ کے قیام پر تقریباً 1.52 ٹریلین روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ملک میں 20 نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو اس کا مجموعی تخمینہ اور اخراجات30 ٹریلین روپے تک جا پہنچتے ہیں جبکہ ہمارے پاس کل بجٹ 1.4 ٹریلین روپے کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشعال یوسفزئی کی مبینہ آڈیو لیک، سلمان اکرم راجہ پرسنگین الزامات
سہیل آفریدی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے بڑے اصلاحاتی عمل کو فوری طور پر کرنے کے بجائے مختلف مراحل میں مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی صوبے یا علاقے کا استحصال نہ ہو اور مالیاتی نظام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔





