مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور امریکا و ایران تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جس کے اثرات براہِ راست پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑے۔
رواں سال اپریل میں اس بحران کے عروج پر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھی۔ تاہم، بعد میں عالمی منڈی میں دباؤ کم ہونے سے قیمتوں میں بتدریج کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور اب ایک بار پھر صارفین کے لیے بڑی راحت کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے عالمی منڈی کی تبدیلیوں کا اثر فوری اور شفاف طریقے سے عوام تک پہنچانے کے لیے پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس نئے نظام میں عالمی منڈی کے پلاٹس بینچ مارک (Platts benchmark) اور سات ورکنگ دنوں کی اوسط قیمت (Rolling Average) کو بنیاد بنایا جاتا ہےتاکہ حکومت کو ہر بار سیاسی بنیادوں پر فیصلہ نہ کرنا پڑے بلکہ عالمی مارکیٹ کے مطابق قیمتیں خودکار طریقے سے اوپر یا نیچے منتقل ہوں۔
ماہرین اور حکومتی حکام کے مطابق اس نئے فارمولے میں سات روزہ اوسط سب سے اہم عنصر ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں گرتی ہیں تو ماضی کے مہنگے دن اوسط سے نکلنے میں چند دن کا وقت لیتے ہیں۔ جیسے ہی زیادہ قیمت والے دن سات روزہ اوسط سے باہر نکلتے ہیں اور ان کی جگہ کم قیمت والے دن شامل ہوتے ہیں تو پاکستانی مارکیٹ میں بھی قیمتیں تیزی سے نیچے آنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں کمی کا اثر پمپ ریٹ پر ظاہر ہونے میں چند دنوں کا وقفہ آتا ہے۔
مارکیٹ ذرائع اور انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں موجودہ کم سطح پر برقرار رہتی ہیں اور روپیہ مستحکم رہتا ہے تو انے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 15 سے 25 روپے فی لیٹر تک کمی کا واضح امکان ہے۔
اسی طرح ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں میں آنے والی کمی کا فائدہ بھی اس فارمولے کے تحت پاکستانی مارکیٹ میں منتقل ہونا شروع ہو جائے گا۔ تاہم یہ کمی ایک ہی جھٹکے میں سامنے آنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر مرحلہ وار صارفین تک پہنچے گی۔
اس وقت ملک میں 8 اگست سے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق پیٹرول 327.62 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 380.86 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔
توانائی و معاشی امور کے تجزیہ کار سید عمران احمد کے مطابق عالمی قیمتوں میں کمی سے پاکستان میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت کم ہوگی جس سے مہنگائی کا دباؤ بھی گھٹے گا۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
تاہم ان کا کہنا تھا کہ حتمی قیمت کا انحصار صرف خام تیل پر نہیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی اخراجات، اور حکومتی ٹیکسز (جو اس وقت پیٹرول پر 110 روپے اور ڈیزل پر 96 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں) پر بھی ہوگا۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں حالات دوبارہ نہ بگڑے تو عوام کو آنے والے دنوں میں مسلسل ریلیف ملنے کی توقع ہے۔





