مال روڈ راولپنڈی فائرنگ میں ملوث ہلاک دہشتگرد محمد حسین کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آگئے

مال روڈ راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ہلاک دہشت گرد محمد حسین کے حوالے سے انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حاصل ہونے والے شواہد سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہلاک دہشت گرد محمد حسین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سرگرم کارکن تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گرد جماعت کی تمام مرکزی و مقامی قیادت سے مسلسل رابطے میں تھا اور ان کی ہدایات پر عمل پیرا تھا۔

ذرائع کے مطابق محمد حسین احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں کے دوران اشتعال انگیزی، پولیس و انتظامیہ پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات میں بھی براہِ راست ملوث رہا ہے۔ ہلاک دہشت گرد دھرنوں کے دوران جدید اسلحے کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد حسین کے نیٹ ورک اور اس کے دیگر سہولت کاروں کے حوالے سے مزید باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کے پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے ساتھ مسلسل روابط تھے۔ کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کے مطابق اس کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی سے 31 جنوری 2024ء کو 1 بار بات ہوئی۔

پی ٹی آئی ایم این اے محمد اقبال خان (NA-27) سے 5 بار رابطے ثابت ہوئے جن میں آخری کال 13 مئی 2025ء کو ہوئی۔

پی ٹی آئی ایم پی اے عبد الغنی (PK-71) سے 10 مرتبہ رابطے ہوئے جبکہ آخری کال 15 فروری 2025ء کو ہوئی۔ اس کے علاوہ آئی ایس ایف کے صوبائی کنوینر و صدر مشرف آفریدی کے ساتھ 24 بار ٹیلی فونک رابطے ریکارڈ پر آئے جن میں آخری کال 19 نومبر 2024ء کو ہوئی۔

ہلاک دہشت گرد محمد حسین کی خاندانی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں، جس کے مطابق 10 اپریل 1994ء کو پیدا ہونے والے محمد حسین کے 4 بھائی گل جی، شیر زمان، شاہ حسین، گل حسین اور 2 بہنیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد حسین کے نیٹ ورک، کال ڈیٹا اور اس کے دیگر سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

Scroll to Top