پنشن ملازم کا بنیادی آئینی حق ہے، خیرات نہیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ملازم یا اس کے اہلخانہ کو پنشن اور دیگر واجبات سے محروم رکھنا آئینی انصاف کے منافی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی رعایت يا خیرات نہیں بلکہ ملازم کی طویل خدمات کا محفوظ معاوضہ ہے جو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اور انسانی وقار سے منسلک ہے۔

جسٹس ارشد شاہ کے تحریر کردہ فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کا سابقہ حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹی ایم اے ایبٹ آباد کے متوفی ملازم بشیر حسین کی بیوہ کی اپیل منظور کر لی گئی ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ بیوہ کو پنشن، گریجویٹی، کمیوٹیشن اور تمام بقایا جات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔ فیصلے میں یہ اصول بھی طے کیا گیا کہ اگر کسی قانون کی دو تشریحات سامنے آئیں تو ملازم کے فائدے والی تشریح اپنائی جائے گی۔

کیس کے حقائق کے مطابق بشیر حسین نومبر 2020ء میں بطور چوکیدار ریٹائر ہوئے تھے اور ان کی کوالیفائنگ سروس میں چند ماہ کی کمی کو سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے معاف کر دیا تھا۔ اس کے باوجود آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعتراض لگا کر ادائیگی روک دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : جماعت اسلامی کا بڑا مطالبہ، چاروں صوبوں میں دھرنوں کا اعلان

2021ء میں ملازم کی وفات کے بعد ان کی بیوہ نے قانونی جنگ لڑی جس پر اب عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے انتظامی اعتراضات کو منسوخ کر دیا۔

Scroll to Top