راولپنڈی: ٹیکسلا کے علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی ٹک ٹاکر خاتون شمسو عرف عائشہ کے قتل کا مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس میں قتل کے واقعے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے والد نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی شمسو عرف عائشہ کو کاشف کاشی نے ٹیلی فون کرکے بلایا تھا، جس کے بعد وہ اپنی بہن اور بھائی کو ساتھ لے کر گاڑی میں گھر سے روانہ ہوئی۔
معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 13 لاکھ فالوورز تھے۔ مقتولہ کو گردن میں گولی لگی۔
درخواست کے مطابق نجی پیٹرول پمپ کے قریب موٹرسائیکل سوار ملزمان نے گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں شمسو عرف عائشہ شدید زخمی ہو کر جاں بحق ہوگئی، جبکہ گاڑی بے قابو ہوکر ڈمپر سے جا ٹکرائی اور مقتولہ کی دوسری بہن بھی زخمی ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹیکسلا بائی پاس کے قریب فائرنگ، 28 سالہ ٹک ٹاکر خاتون جاں بحق اور 12 سالہ بہن زخمی
مقتولہ کے والد نے ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی گزشتہ چار سال سے ٹک ٹاکر تھی اور اس کا کوثر اور جاوید عرف شاہین کے ساتھ لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ نے متعدد مرتبہ ملزمان کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں اہلخانہ کو آگاہ بھی کیا تھا۔
والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزمان نے رقم ہڑپ کرنے کے لیے خود یا اپنے نامعلوم ساتھیوں کے ذریعے ان کی بیٹی کو قتل کروایا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے اور ایف آئی آر میں نامزد افراد سمیت دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





