اسلام آباد: یوم آزادی کے موقع پر 14 اگست کی شام ڈی چوک میں منعقدہ تقریب کے دوران آئی جی اسلام آباد اور کمشنر و چیئرمین سی ڈی اے کی بگی میں پروٹوکول کے ساتھ آمد پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین اور صحافیوں نے دونوں افسران کے بگی میں سوار ہونے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حکمران اشرافیہ کے وی آئی پی کلچر اور عوام سے فاصلے کی مثال قرار دیا۔
کاش یہ مناظر حقیقی نہ ہوں اور آتٹیگئشل انٹیلیجینس کے تخلیق کردہ ہوں! اگر بدقسمتی سے یہ حقیقی ہیں تو اس سنگین حقیقت کا اظہار ہیں کہ یہ افسران عوام اور خصوصاً نوجوانوں کے اندر وی آئی پی نظام کے خلاف کھولتے ہوے جذبات اور آتش فشاں پھٹنے کے امکان سے کس قدر بے خبر ہیں!! https://t.co/44GCN1PBtt
— احمد بلال محبوبAhmedBilalMehboob (@ABMPildat) August 15, 2026
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ممالک میں اعلیٰ حکام خود کو عوام کا خادم اور جوابدہ سمجھتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بعض سرکاری افسران خود کو حاکم سمجھنے لگے ہیں۔
دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک کے وزیر خارجہ! بمقابلہ ایک لاکھ ہزار ارب قرض میں ڈوبے ملک کے افسران! مسئلہ کسی ایک تقریب کا نہیں ہے، مسئلہ ہماری حکمران اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ ہے۔وہ مائنڈ سیٹ جو عوامی پیسے پر جہاز سے لے کر بگھی تک کا استعمال اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ pic.twitter.com/iZccINwxLx
— Ather Kazmi (@2Kazmi) August 15, 2026
ایک اور صارف نے موجودہ طرزِ حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں سے عام شہریوں تک معاشرے میں ایک ایسا ذہن پروان چڑھ چکا ہے جہاں اختیار اور طاقت کا اظہار معمول بن گیا ہے۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکمرانوں سے لے کر عام عوام تک اسی بگھی مائنڈ سیٹ کے ہو چکے ہیں۔ہمارے عام لوگوں کے پاس بھی تھوڑے پیسے آجائیں تو کم عمرنوکروں کی فوج رکھ کر دل خوش کرلیتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کرنا اپنا حق سمجھنے لگے ہیں یہانتکہ پولیس کا غیرقانونی کام بھی صحیح لگنے لگا ہے۔
— Shehla Naz (@Naxhocane) August 15, 2026
صحافی برادری کی جانب سے بھی واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اینکر اطہر کاظمی نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف ایک تقریب یا بگی تک محدود نہیں بلکہ اصل مسئلہ حکمران اشرافیہ کی وہ سوچ ہے جو عوامی وسائل کے استعمال کو اپنا حق سمجھتی ہے۔
امیر ملک کا وزیر خارجہ خود کو عوام کا خادم سمنجھتا ہے اور عوام کو جواب دے ہے مگر ہمارے انگریزوں کے پالتوں خود کو حاکم سمجھتے ہیں😭
— khan Zahid Khan (@zahidkh33653988) August 15, 2026
پلڈاٹ کے صدر احمر بلال صوفی نے واقعے کی ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مناظر حقیقی ہیں تو یہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بعض افسران عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں وی آئی پی نظام کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات سے کس قدر بے خبر ہیں۔
اینکر نادیہ مرزا نے بھی دونوں افسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کو عوام کا خادم ہونا چاہیے، جبکہ صحافی نوید صدیقی نے بگی کی سواری کو نوآبادیاتی اور وائسرائے دور کی یاد قرار دیا۔
چیئرمین CDA اور IG پولیس شاید اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ رہے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ عوام کے نوکر ہیں ۔
جس ملک کا قرضہ 100trillion ہے اور عوام بھوک اور افلاس سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو وہاں کے civil servants کی عیاشیاں ملاحظہ فرمائیں۔ pic.twitter.com/0sJ14zUC27
— Nadia Mirza (@nadia_a_mirza) August 15, 2026
واقعے پر عوامی ردعمل کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد کا دفاع کرتے ہوئے وضاحت پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا، تاہم اس میں دونوں افسران کا قصور نہیں تھا۔
محسن نقوی کے مطابق صدر مملکت کی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے باعث وہ اور تقریب کے معزز مہمان خصوصی تاخیر کا شکار ہوگئے تھے۔ چونکہ عوام شام 5 بجے سے تقریب کے انتظار میں تھے اور مزید تاخیر کا خدشہ تھا، اس لیے افسران کو ہدایت کی گئی کہ پروگرام شروع کردیا جائے۔
I know what happened was not appropriate, but I want to clarify that it was neither the IG’s nor the Chief Commissioner’s Islamabad fault.
The Chief Guest and I were delayed due to the President’s meeting with the Prime Minister. The crowd had been waiting since 5:00 pm, and at… https://t.co/pkBmK45RMN
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 15, 2026
وزیر داخلہ نے بتایا کہ معزز مہمان خصوصی کے لیے بگی کا انتظام کیا گیا تھا اور افسران کو بھی ان کے ہمراہ آنا تھا، تاہم ناگزیر حالات کے باعث افسران نے بگی استعمال کی۔ ان کے مطابق دونوں افسران نے ابتدا میں اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم عوام کی سہولت کے لیے انہیں پروگرام شروع کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز میں انہیں اپنا سامان خود اٹھا کر ایئرپورٹ سے باہر نکلتے دیکھا گیا تھا، جس کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان میں سرکاری پروٹوکول کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔





