بگی پر پروٹوکول انجوائے کرنا آئی جی اسلام آباد اور کمشنر کے گلے پڑ گیا، محسن نقوی نے بھی وضاحت دے دی

اسلام آباد: یوم آزادی کے موقع پر 14 اگست کی شام ڈی چوک میں منعقدہ تقریب کے دوران آئی جی اسلام آباد اور کمشنر و چیئرمین سی ڈی اے کی بگی میں پروٹوکول کے ساتھ آمد پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین اور صحافیوں نے دونوں افسران کے بگی میں سوار ہونے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حکمران اشرافیہ کے وی آئی پی کلچر اور عوام سے فاصلے کی مثال قرار دیا۔

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ممالک میں اعلیٰ حکام خود کو عوام کا خادم اور جوابدہ سمجھتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بعض سرکاری افسران خود کو حاکم سمجھنے لگے ہیں۔

ایک اور صارف نے موجودہ طرزِ حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں سے عام شہریوں تک معاشرے میں ایک ایسا ذہن پروان چڑھ چکا ہے جہاں اختیار اور طاقت کا اظہار معمول بن گیا ہے۔

صحافی برادری کی جانب سے بھی واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اینکر اطہر کاظمی نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف ایک تقریب یا بگی تک محدود نہیں بلکہ اصل مسئلہ حکمران اشرافیہ کی وہ سوچ ہے جو عوامی وسائل کے استعمال کو اپنا حق سمجھتی ہے۔

پلڈاٹ کے صدر احمر بلال صوفی نے واقعے کی ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مناظر حقیقی ہیں تو یہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بعض افسران عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں وی آئی پی نظام کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات سے کس قدر بے خبر ہیں۔

اینکر نادیہ مرزا نے بھی دونوں افسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کو عوام کا خادم ہونا چاہیے، جبکہ صحافی نوید صدیقی نے بگی کی سواری کو نوآبادیاتی اور وائسرائے دور کی یاد قرار دیا۔

واقعے پر عوامی ردعمل کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد کا دفاع کرتے ہوئے وضاحت پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا، تاہم اس میں دونوں افسران کا قصور نہیں تھا۔

محسن نقوی کے مطابق صدر مملکت کی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے باعث وہ اور تقریب کے معزز مہمان خصوصی تاخیر کا شکار ہوگئے تھے۔ چونکہ عوام شام 5 بجے سے تقریب کے انتظار میں تھے اور مزید تاخیر کا خدشہ تھا، اس لیے افسران کو ہدایت کی گئی کہ پروگرام شروع کردیا جائے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ معزز مہمان خصوصی کے لیے بگی کا انتظام کیا گیا تھا اور افسران کو بھی ان کے ہمراہ آنا تھا، تاہم ناگزیر حالات کے باعث افسران نے بگی استعمال کی۔ ان کے مطابق دونوں افسران نے ابتدا میں اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم عوام کی سہولت کے لیے انہیں پروگرام شروع کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز میں انہیں اپنا سامان خود اٹھا کر ایئرپورٹ سے باہر نکلتے دیکھا گیا تھا، جس کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان میں سرکاری پروٹوکول کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔

Scroll to Top