خیبرپختونخوا میں چوری کے موبائل اور موٹرسائیکلیں بیچنے والے آج وزیر اور بڑے ہوٹلوں کے مالک بن گئے ہیں، اختیار ولی خان

وزیرعظم کے کو آرڈینیٹر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا کی سابق و موجودہ حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں چوری کے موبائل اور موٹرسائیکلیں بیچنے والے وزیر بن گئے جبکہ اقتدار سے قبل مالی مشکلات کا شکار افراد آج بڑے ہوٹلوں کے مالک بن چکے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں کرپشن کو پیکیج کا حصہ بنایا گیا اور نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ جائیدادوں کی خریداری میں پی ٹی آئی کے موجودہ اور سابق ارکان کے نام سامنے آتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنے قائد کے افکار کو بھی نہیں مانتے اور بعض ارکان اپنے لیڈر کو قائداعظم سے بڑا لیڈر سمجھتے ہیں، ریاست مخالف بیانیے کے ذریعے نئی نسل کو گمراہ کیا گیا۔

اختیار ولی خان نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملے کے ملزمان کا پی ٹی آئی سے تعلق ثابت ہوا جبکہ گرفتار افراد کی ویڈیوز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس حقیقت واضح کرتے ہیں، انہوں نے زیارت ریزیڈنسی، چکدرہ قلعے اور ریڈیو پاکستان پشاور پر حملوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کے خواب کا مذاق اڑانے والے پاکستان کے خیرخواہ نہیں جبکہ پی ٹی آئی کے بعض ارکان دو قومی نظریے کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا پشاور میں جلسہ گاہ کا دورہ، صوبے کے خراب حالات کا اعتراف بھی کرلیا

لیگی رہنما نے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں کی بدترین صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات کاٹنے والوں کو جنگلات کی وزارتیں دی گئیں اور منشیات سے منسلک عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے صوبے میں اقتدار رکھنے والوں سے قوم کو سوال کرنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ عوام کو نعروں سے متاثر کیا جا سکتا ہے، ہمیشہ بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا، پاکستان کی ترقی کے لیے قوم کو سیاسی نعروں کے بجائے حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔

Scroll to Top