کاشف عزیز
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے کوہستان اسکینڈل میں نامزد ملزم مزمل خان کی جانب سے نیب نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روک دیا۔
درخواست پر سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل اشفاق احمد داؤد زئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو کوہستان اسکینڈل میں ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان کے والد کو بھی اسی کیس میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کے والد کو پشاور ہائیکورٹ سے ضمانت مل چکی ہے، تاہم اب نیب کی جانب سے ان کے موکل کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز نے مستقل ججز کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو اس سے قبل بھی نیب کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جس کے بعد انہیں دوبارہ نوٹس جاری کیا گیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو نیب کی انکوائری میں شامل ہونے اور تفتیشی عمل میں مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو درخواست گزار مزمل خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔





