پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن کے اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز کے زیر اہتمام ’’Space4Climate – Waterways & Land Cover Dynamics, Crop Monitoring, Air Quality/Smog and Heatwave Hazard Assessment‘‘کے موضوع پر تیسرا علاقائی سمپوزیم لاہور میں منعقد ہوا۔
لاہورکےنجی ہوٹل میں ہونے والے سمپوزیم میں اعلیٰ سرکاری حکام، پالیسی سازوں، سائنس دانوں، محققین، ترقیاتی شراکت داروں، ماہرین تعلیم اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی۔ سمپوزیم کا مقصد موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے لیے خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر تعاون کو فروغ دینا تھا۔
یہ تقریب سپارکو کی Space4Climate Initiative and Awareness on Climate Change Impacts کے تحت ملک کے سات شہروں میں منعقد ہونے والی نیشنل اور صوبائی سمپوزیم سیریز کا تیسرا کامیاب پروگرام تھا۔
اس سیریز کے تحت اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، گلگت اور مظفرآباد میں سمپوزیم منعقد کیے جائیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا سمپوزیم 23 جولائی 2026 کو پشاور میں منعقد ہوا، جبکہ دوسرا 5 اگست 2026 کو گلگت میں ہوا۔
سمپوزیم میں پاکستان، بالخصوص پنجاب کو درپیش موسمیاتی خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں سیلاب، قدرتی آفات، فضائی آلودگی، ہیٹ ویوز اور پانی کے وسائل میں تبدیلی شامل ہیں۔
شرکا نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں ارتھ آبزرویشن ٹیکنالوجیز کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کو شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیا۔
افتتاحی سیشن میں سپارکو کے اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فاروق نے Space4Climate Initiative کا تعارف پیش کیا، جبکہ سپارکو کے ممبر اسپیس ایپلی کیشن اینڈ ریسرچ ونگ ظفر اقبال نے خیرمقدمی کلمات ادا کیے۔
چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان، ہلال امتیاز، پرائیڈ آف پرفارمنس نے سمپوزیم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں چیئرمین سپارکو نے پاکستان بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اجاگر کیا، جن میں گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور زراعت و آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس، ریموٹ سینسنگ، جیو اسپیشل اینالیٹکس اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز ماحولیاتی تبدیلی کی مسلسل اور غیر جانب دار نگرانی کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
چیئرمین سپارکو نے سیٹلائٹ ڈیٹا کو قومی ترجیحات کے لیے قابلِ عمل موسمیاتی معلومات میں تبدیل کرنے میں سپارکو کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
محمد یوسف خان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خلائی ٹیکنالوجی پائیدار ترقی اور موسمیاتی لچک کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپارکو اپنے سیٹلائٹس کے ذریعے خلائی ٹیکنالوجیز اور ارتھ آبزرویشن صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جنہیں موسمیاتی موافقت، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، آبی وسائل کے انتظام، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے کویتی وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعلقات مذیدمضبوط بنانے پر اتفاق
انہوں نے سائنس پر مبنی موسمیاتی اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پنجاب کو درپیش بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز کے تناظر میں خلائی ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا۔
سمپوزیم کی ایک اہم خصوصیت سپارکو کے Space4Climate Initiative کی پیشکش اور Space4Climate Geospatial Portals کا لائیو مظاہرہ تھا۔
اس مظاہرے میں بتایا گیا کہ سیٹلائٹ پر مبنی موسمیاتی معلومات قومی اور صوبائی اداروں میں فیصلہ سازی کے لیے کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
پورٹل میں پاکستان کے سیٹلائٹ اثاثوں، جن میں PRSS-1، SAR-1، EO سیریز اور ہائپراسپیکٹرل صلاحیتیں شامل ہیں، سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے گرین ہاؤس گیسز، فضائی معیار، گلیشیئرز، برفانی غلاف، آبی گزرگاہوں، زمینی احاطے، ساحلی ماحولیاتی نظام اور دیگر اہم ماحولیاتی اشاریوں سے متعلق قریباً حقیقی وقت کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
سمپوزیم کے تکنیکی سیشنز میں آبی گزرگاہوں اور زمینی احاطے میں تبدیلی، فصلوں کی نگرانی، فضائی معیار اور ماحولیاتی جائزے، جبکہ ہیٹ ویو کے خطرات کا جائزہ لینے سمیت مختلف موضوعات پر ماہرین نے پریزنٹیشنز دیں اور تبادلہ خیال کیا۔
مباحثوں میں پنجاب میں موسمیاتی موافقت، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، زراعت، آبی وسائل کے انتظام، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات اور جیو اسپیشل اینالیٹکس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
سمپوزیم میں ’’Mainstreaming Space-Based Information in Provincial Planning and Development for Climate Resilient Societies and Infrastructure‘‘ کے موضوع پر ایک انٹرایکٹو پینل ڈسکشن بھی ہوئی۔
پینل میں بین الادارہ جاتی رابطہ مضبوط بنانے، جیو اسپیشل معلومات تک رسائی بڑھانے اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی موسمیاتی خدمات کو منصوبہ بندی، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، قدرتی وسائل کے انتظام اور ماحولیاتی نظم و نسق میں شامل کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
سمپوزیم کے اختتام پر سفارشات پیش کی گئیں جن میں سرکاری محکموں کی جانب سے Space4Climate خدمات کو ادارہ جاتی سطح پر اپنانے، سائنسی اور سرکاری اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے، جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز میں استعداد کار بڑھانے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے عملی موسمیاتی معلومات کی خدمات کو مزید ترقی دینے پر زور دیا گیا۔





