کامران علی شاہ
پشاور: کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (CTD) پشاور ریجن نے میراکچوڑی کے علاقے میں انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے مبینہ JUA جمروز گروپ سے تعلق رکھنے والے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ کارروائی کے دوران دیگر دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے مطابق مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کے لیے قبرستان مہر گل کلے، میراکچوڑی میں موجود ہیں۔اطلاع کی بنیاد پر سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی SWAT ٹیم نے مذکورہ مقام پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔
کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کردی جو تقریباً 20 سے 25 منٹ تک جاری رہی۔فائرنگ رکنے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا جہاں سے 4 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ دیگر دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی میں تمام اہلکار محفوظ رہے۔ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے 3 کلاشنکوفیں، ایک پستول، ایک ہینڈ گرینیڈ، 7 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کیے گئے جنہیں مزید تفتیش اور فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ایک ہلاک دہشت گرد کی شناخت سید ولی ولد عبدالغنی، سکنہ ننگرہار، افغانستان کے نام سے ہوئی ہے۔ اس کی جیب سے افغان مہاجر کارڈ بھی برآمد ہوا۔
بیان کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سید ولی ان تین خودکش حملہ آوروں میں سے ایک ہو سکتا ہے جن کے افغانستان سے ضلع خیبر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے سے متعلق قبل ازیں تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی ٹیرارسٹ پروفائلنگ کا عمل جاری ہے جبکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں تعاقب اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی بجائے افغانستان کے مفادات عزیز: سینئر صحافی عقیل یوسفزئی نے فضل الرحمان کی دوغلی سیاست کو بے نقاب کر دیا
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی پشاور ریجن کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، ہمت اور بہادری کو سراہا ہے۔
سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خاتمے، ریاستی رٹ کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔





