صدر ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کو نہر امریکہ کا نام کیوں دیا؟ صدارتی حکمنامے میں وجہ سامنے آگئی

نہر اونٹاریو کو نہر امریکہ کا نام کیوں دیا گیا؟ ٹرمپ کے صدارتی حکمنامے میں وجہ سامنے آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے تجارتی جنگ چھیڑ کر نہر اونٹاریو کو نہر امریکا کا نام دے دیا، اس حوالے سے صدارتی حکمنامہ بھی جاری کردیا گیا ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت محکمہ داخلہ کو نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ دوسری آبی گزرگاہ ہے جس کا نام ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اوول آفس میں حکم نامے پر دستخط کے موقع پر امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم، تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر بھی موجود تھے۔

ٹرمپ نے دستخط کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے جا رہے ہیں، اور یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، خلیج اور نہر کا نام تو بدل دیا اب سمندر کا نام بدلنا رہ گیا ہے ، ممکن ہے بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کا نام ہی بدل دیں۔

حکم نامے کے تحت برگم اور محکمہ داخلہ کو وفاقی حکومت کے جغرافیائی ناموں کے نظام میں نہر کا نام تبدیل کرکے نہر امریکہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

امریکی حکومت کے جغرافیائی ناموں اور مقامات سے متعلق ڈیٹا بیس میں بھی اب اس نہر کا نیا نام شامل کیا جائے گا، جو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کی امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی، امریکی مصنوعات پرکئی فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی اور ٹیرف کے معاملے پر تنازع جاری ہے۔

 کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے سخت ردعمل  دیتے ہوئے کہا کہ نہراونٹاریو کا نام امریکہ کے اعلان آزادی اور کینیڈا کی کنفیڈریشن سے بھی پرانا ہے ، یہ ہمیشہ نہراونٹاریو ہی رہے گی ۔

Scroll to Top