لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عہدہ رہے یا نہ رہے، وہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جبکہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے مطالبے کے سب سے بڑے حامی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انتظامی نظام کو ختم کرنے کے بجائے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ’ری سیٹ‘ کرنے کی ضرورت ہے اور نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے بجائے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔
🚨🚨اپنے نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی، اس بات کی مختلف تشریحات کی گئیں۔ میں آج پھر اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ میرا اشارہ کسی سیاسی جماعت کی جانب نہیں تھا، میں نے اس نظام کی بات کی جو 79 سالوں سے چل رہا ہے۔ محسن نقوی@MohsinnaqviC42 pic.twitter.com/LfSDFDPtso
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 5, 2026
یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں ’نیشنل پالیسی ڈائیلاگ‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ 79 برس گزرنے کے باوجود پاکستان مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہا، اس لیے ملک کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی بات کا مطلب نہ موجودہ حکومت کی تبدیلی ہے اور نہ کسی سیاسی جماعت یا موجودہ سیاسی بندوبست کو تبدیل کرنا۔ ان کے مطابق مختلف لوگوں نے ’ری سیٹ‘ کے تصور کی الگ الگ تشریحات کیں، تاہم ان کا اشارہ کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی طرف نہیں بلکہ 79 برس سے جاری انتظامی نظام کا جائزہ لینے کی طرف تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، پالیسیاں، بجٹ اور منصوبے بھی بدلتے رہتے ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کو کتنا ڈیلیور کر پا رہی ہے۔ 79 برس کے دوران بہت سے منصوبے بنائے گئے، مگر تعلیم، صحت، صاف پانی، صفائی اور انصاف سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں : نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ وفاقی وزیر قانون نے فارمولا پیش کردیا
محسن نقوی نے سرکاری تعلیمی نظام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانچویں جماعت کا بچہ عام جملے بھی نہیں پڑھ پاتا، جو ہمارے تعلیمی نظام کی حالت ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کا مقصد اسے ختم یا توڑنا نہیں بلکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کرکے بہتر بنانا ہے۔ نظام میں بہتری، بہتر ڈیلیوری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے عوامی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد واحد شہر ہے جسے کسی بجٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں ملتا اور سی ڈی اے اپنی زمینیں فروخت کرکے نظام چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کو این ایف سی میں حصہ ملنا چاہیے، مگر اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔
محسن نقوی نے کہا کہ اگر کوئی نیا صوبہ بننا ہے تو اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے مطالبے پر سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان میں کوئٹہ، خیبر پختونخوا میں پشاور، پنجاب میں لاہور اور سندھ میں کراچی جیسا کوئی اور شہر ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں میئر عام آدمی کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے، اس لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نئے صوبے بنانا غیر آئینی ہوتا تو شہید ذوالفقارعلی بھٹو آئین کی کتاب میں اس کا ذکر نہ کرتے، وزیر صحت
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل کے معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نئے میئر بھی آئیں گے اور اگر عوام کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور عوام بھی انہیں چاہتی ہے تو ان کے قیام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتی ہے تو وہ بننے چاہئیں اور اگر عوام نہیں چاہتی تو یہ یونٹس نہیں بننے چاہئیں۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ نئے صوبے بنانے کا عمل آئین کے اندر رہ کر ہوگا اور کسی بھی صورت غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق انتظامی نظام میں تبدیلی آئین کے مطابق اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی تقاریر کی جارہی ہیں، لیکن اس پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جو کل یا پرسوں ہونے جارہا ہو، بلکہ فیصلہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب عوام چاہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کسی فرد کی رائے سے زیادہ عوام کی رائے اہم ہے، اس لیے سب کو ریلیکس رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : نئے صوبوں کے معاملے پر وزیردفاع نے پیپلز پارٹی کو آئینہ دکھا دیا
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور ملک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، اس لیے آبادی اور ضروریات میں اضافے کے ساتھ انتظامی ڈھانچے کو بھی حالات کے مطابق ازسرنو منظم کرنے پر غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 80 سال پہلے ایک خاندان ایک گھر میں رہتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ خاندان بڑھتے گئے تو ایک گھر کے بجائے دو اور پھر کئی گھروں کی ضرورت پڑی۔ اسی طرح آبادی اور ضروریات بڑھنے کے ساتھ انتظامی نظام میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی بات پر اضطراب پایا جاتا ہے، اس اضطراب کو دور کرنا ہوگا۔ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم شہباز شریف اور سینئر وزراء ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حامی ہیں،سینئرصحافی حامد میر کا دعوی
انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس نسل یا برادری کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کے لیے بننے چاہئیں۔ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انتظامی تقسیم کا مقصد حکومتوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ حکمرانی کا نظام بہتر بنانا ہے۔ موجودہ انفراسٹرکچر برقرار رہے گا، صرف اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے نقشے یا پلان پہلے سے طے نہیں ہونے چاہئیں اور کسی ایک تجویز پر پہلے ہی فکس نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ اور میڈیا کو بھی نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں جو بھی فیصلہ ہوگا، اسے سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، نظام کی بہتری اور نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔





